جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 313 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 313

313 مختلف لوگوں نے توجہ دلائی ہے خود بھی خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی جاری فرمودہ تحریکات ہیں اور غلبہ اسلام کے لئے آپ کے مختلف منصوبے تھے۔آپ کے خطبات ہیں ، تقاریر ہیں ، مجالس عرفان ہیں۔ان کی تدوین اور اشاعت کا کام ہے۔تو یہ کافی وسیع کام ہے جس کے لئے الگ ادارہ کے قیام کی ضرورت ہے۔تو کافی سوچ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ایک ادارہ ظاہر فاؤنڈیشن کے نام سے قائم کیا جائے اور اس کے لئے انشاء اللہ ایک مجلس ہوگی ، بورڈ آف ڈائریکٹر ہوگا، جو کہ ہمیں ممبران پر مشتمل ہوگا اور اس کی ایک سب کمیٹی لندن میں بھی ہوگی۔کیونکہ دنیا میں مختلف جگہوں میں پھیلے ہوئے ، مختلف زبانوں کے کام ہیں اور جہاں تک فنڈ ز کا تعلق ہے مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ تینوں مرکزی انجمنیں مل کر یہ فنڈ مہیا کریں گی لیکن کچھ لوگوں کی بھی خواہش ہو گی تو اس میں کوئی پابندی نہیں ہے جو کوئی اپنی خوشی سے، اپنی مرضی سے اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں، ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ، ان کو اجازت ہوگی، دے سکتے ہیں اس میں چندہ۔تو دعا کریں جو کمیٹی بنے گی اس کو اللہ تعالیٰ کام کرنے کی توفیق بھی دے اور ہر لحاظ سے وہ کام جو حضور کی تحریکات کے ہیں جو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ان کو مکمل کرنے کی توفیق ملے۔“ (الفضل انٹر نیشنل ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء) اس ادارے نے تادم تحریر حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ ۱۹۸۸ء تک چھ ، جلدیں شائع کی ہیں۔اسی طرح خطبات عید ین اور حضور کی قبلاز خلافت کی تمام تقاریر و کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے نیز حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے شہدائے احمدیت کے تمام خطبات کو شہدائے احمدیت“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے۔نور فاؤنڈیشن سید نا حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بی ادارہ ۲۰۰۵ء میں قائم فرمایا جس کے قیام کا مقصد حضرت خلیفہ امسیح الاول کی یاد میں کتب احادیث نبوی کا اردو تر جمہ کرنا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس شعبہ کے تحت اب تک صحاح ستہ کا ابتدائی اردو ترجمہ کا کام مکمل ہو گیا ہے۔جس کی نظر ثانی کا کام بڑی تیزی سے ہورہا ہے۔نور فاؤنڈیشن کے تحت اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحیح مسلم کی ۸ جلد میں معہ ترجمہ شائع ہو چکی ہیں جبکہ نویں جلدز بر طبع ہے۔اس طرح اس ادارے کے تحت شمائل ترمذی کے حصہ کا بھی اردو ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔الحمد للہ علی ذلک