جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 306
306 وفات نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو پھر سے ایک نیا خلیفہ عطا فرمایا۔حضرت خلیفۃ أیح الثالث کو خلافت کی ذمہ داری عطا کی گئی۔آپ نے لوگوں کے دکھے ہوئے دلوں کے باعث اور لوگوں کی حضرت فضل عمر سے بے پناہ محبت کے پیش نظر حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی تجویز جلسه سالانہ ۱۹۶۵ء کے اختتامی اجلاس میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان فرمایا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا سب سے اہم مقصد حضرت فضل عمر کے خطبات اور تقاریر کومحفوظ کرنا ہے دوسرا کام ان کو کتابی شکل میں شائع کرنا ہے۔چنانچہ اس ادارہ کے قیام سے ہی بڑی تیزی سے یہ کام شروع ہو گیا۔الفضل اور سلسلہ کے دوسرے رسائل و جرائد سے حضرت فضل عمر کے خطبات و تقاریر کو ڈھونڈ کر ان کو کتابی شکل دینے کے لئے تیار کیا گیا۔چنانچہ خطبات محمود کے نام سے حضرت مصلح موعود کے فرمودہ خطبات نکاح ، عیدین اور خطبات جمعہ کو کتابی شکل میں ڈھالا جا رہا ہے۔ادارہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے انتظام و انصرام کے لئے ایک بورڈ آف ڈائر یکٹر ز مقرر ہے جن کی منظوری حضرت خلیفہ اسیح دیتے ہیں۔اور دفتری معاملات سیکرٹری فضل عمر فاؤ نڈیشن کے سپر د ہیں۔انعامی سکیم برائے علمی مقالہ جات حضرت فضل عمر کو علمی اور تحقیقی کاموں میں خاص دلچسپی تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت فضل عمر کے خطبات و تقاریرکا زیادہ تر موضوع کوئی اہم علمی مسئلہ ہوتا تھا۔اس مقصد کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن نے ایک ہمہ گیر علمی واد بی تحریک کا آغاز کیا تحقیق و جستجو اس تحریک کا طرہ امتیاز ہے۔حضرت فضل عمر ادبی و علمی اور دینی فلسفہ سے مکمل ہم آہنگی کی غرض سے جماعت کو مختلف موضوعات پر بھر پور توجہ دینے کے لئے تیار کرنا چاہتے تھے تا کہ اہل جماعت میں تحقیق و جستجو کے اسرار ورموز سے آگاہی کے ساتھ ساتھ جماعت کے لئے مفید اور نافع تحقیقی و علمی مقالے میسر آ سکیں۔جن مین سے اس غرض کے لئے اہل قلم حضرات کی علمی کاوشوں کو مدنظر رکھ کر فاؤنڈیشن نے انعامی رقم مختص کی تا کہ اہل قلم حضرات کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان میں جماعت کے لئے مفید مضامین لکھنے کا اشتیاق بڑھے اور جماعت کی علمی تصانیف میں اضافہ ہو سکے۔چنانچہ انہی خطوط پر سوچ بچار اور غور و خوض کے بعد ۱۹۶۶ء میں ایک لائحہ عمل وضع کیا گیا۔جس کے زیر اہتمام انعامی مقابلہ تصانیف منعقد کروایا گیا۔اور فاؤنڈیشن کی طرف سے پانچ انعامات مقرر کئے گئے۔پہلا انعام : بنیادی اسلامی عقائد مثلاً ہستی باری تعالی۔صفات الہیہ۔ضرورت نبوت۔معیار