جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 304
304 ۴۔سیف اللہ سپراء صاحب : ” قادیانی تو ڈش سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ان کا راہنما مرزا طاہر احمد ڈش پر پوری دنیا میں قادیانیوں کو باقاعدگی سے خطاب کرتا رہتا ہے۔“ ( مضمون بعنوان بھارتی پرو پیگنڈا کا موثر جواب۔از سیف اللہ سپراء۔روزنامہ نوائے وقت لاہور ستمبر ۱۹۹۷ء اشاعت خاص صفحہ آخر ) ۵۔قاضی محمد اسلم صاحب سیف فیروپوری: روز نامہ جنگ نے اپنے صفحہ آخر پر یہ خبر لگائی کہ مرزا طاہر احمد کا خطاب سیارے کے ذریعے چار براعظموں میں ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔آسٹریلیا، افریقہ، یورپ، ایشیا۔ہمارا عالمی روحانی اجتماع عرفات کے میدان میں حج کے موقع پر ہوتا ہے تو حج کی پوری کیفیات اور حرکات و سکنات سیارے کے ذریعے بعض ایشیائی اور افریقی ملکوں تک بمشکل پہنچائی جاتی ہیں۔کسی ملک کے سر براہ کی تقریر یا خطاب سیارے کے ذریعے دنیا بھر میں کبھی ٹیلی کاسٹ نہیں کیا گیا۔مختلف ممالک میں بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور قد آور سر براہ موجود ہیں ان کی تقریریں اور بیانات بھی پریس کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں۔سیارے کے ذریعے کبھی ٹیلی کاسٹ نہیں کئے گئے۔ہمارے ملک میں دو بڑی قومی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔پاکستان مسلم لیگ جس کے سربراہ جناب محمد خان جونیجو ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی جن کی قائد بنت بھٹو مسٹر بے نظیر زرداری ہیں۔یہ دونوں جماعتیں باری باری ملک کی حکمران رہتی ہیں۔ان دونوں لیدڑوں کی تقریر میں آج تک نہ ٹیلی کاسٹ کی گئیں اور نہ ہی دوسرے ملکوں میں انہیں پہنچایا گیا۔میاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم اور قائد ایوان ہیں۔صدر پاکستان غلام اسحاق خان چیف آف سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ ہیں ان کے خیالات ، خطابات اور تقریر میں بھی آج تک سیارے کے ذریعے ٹیلی کاسٹ نہیں کی گئیں۔کیونکہ سیارے کے ذریعے ٹیلی کاست کر کے دور دراز کے ممالک تک اپنے خیالات پہنچا نا بہت مہنگا کام ہے جو ہمارے جیسے غریب ملک کی بساط سے باہر ہے“۔مضمون عنوان دینی جماعتوں کے لئےلمحہ فکریہ ہفت روزہ اہل حدیث لا ہورا امبر ۱۹۹۲ صفحہ۱۱) ۶۔مولوی محمد اکرم اعوان: "میں قادیانیوں کا انٹرویو پڑھ رہا تھا تو وہ کہنے لگے کہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے لیکن آج ہم اس TV چینل کی بدولت ہر شخص کے گھر کے اندر موجود ہیں۔جہاں اس کے بچے بچیاں، بیوی، بہو، بیٹیاں بیٹھی ہیں وہاں ہم بھی بات کر رہے ہیں۔ہمارا چینل وہاں پہنچ رہا ہے۔بڑی غضب کی بات کی اس نے۔وہ انگریزی جملہ اس طرح تھا۔We are in every bedroom یعنی ہر گھر کے انتہائی اندر کے کمرے تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔اے کاش ہم سائنس سے ڈرنے کی بجائے اسے اپناتے“۔( مضمون بعنوان سائنس اور اسلام۔از مولانا محمد اکرم اعوان۔ماہنامہ المرشد لاہور دسمبر ۱۹۹۵ء صفحہ ۱۳)