جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 263 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 263

263 جامعہ احمد یہ ربوہ جامعہ احمد یہ وہ عظیم دینی درس گاہ ہے جس سے تربیت پانے والے واقفین زندگی تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی غرضیکہ ہر محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ تمام مقاصد کما حقہ پورے ہو رہے ہیں جن کے پیش نظر یہ ادارہ قائم ہوا۔اس کے قیام کا پس منظر اور مختصر تاریخ یہ ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور حضرت حافظ برہان الدین صاحب جہلمی کی وفات نے حضرت مسیح موعود کی توجہ کو اس طرف مبذول کیا کہ جماعت میں کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ مرنے والے علماء کی جگہ لینے کے لئے دوسرے لوگ تیار ہوں جو سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں۔چنانچہ دسمبر ۱۹۰۵ء میں قادیان جلسہ سالانہ کا اجتماع ہوا تو آپ نے اس موقعہ پر نہایت در دانگریز تقریر فرمائی جس میں اپنی اس تجویز کو پیش کیا اور فرمایا۔کہ موجودہ انگریزی مدرسہ یعنی تعلیم الاسلام ہائی سکول ہماری اس مخصوص ضرورت کو پورا نہیں کرتا اس لئے ایسی درس گاہ کی ضرورت باقی رہتی ہے جس میں دینی علوم کی تعلیم دی جائے۔اور ایسے علماء پیدا کئے جائیں جو اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے پوری طرح واقف ہوں اور علم کے علاوہ تقریر وتحریر میں بھی اعلیٰ ملکہ رکھیں اور انہیں انگریزی اور حسب ضرورت سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جائے اور دوسرے مذہب کی تعلیم بھی دی جائے۔اور کسی قدر سائنس بھی سکھائی جائے اور اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جماعت کے نوجوان اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں تا کہ انہیں مناسب تعلیم دلا کر کام میں لگایا جا سکے۔اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ ابھی جماعت میں تربیت کے لحاظ سے بہت کچھ اصلاح اور ترقی کی ضرورت ہے اور فرمایا کہ گو خدا کے وعدں پر نظر رکھتے ہوئے۔مجھے ہر طرح سے امید اور ڈھارس ہے کہ خدا ساری کمیوں کو خود پورا فرمادے گا مگر بظاہر صورت جماعت کی موجودہ حالت اس بچہ کی سی نظر آتی ہے جس نے ابھی چند دن ہی دودھ پیا ہو اور اس کی ماں فوت ہو جائے۔“ (اخبار الحکم جنوری۔فروری ۱۹۰۶ء) حضور کی اس سوز وگداز سے بھری ہوئی تقریر کے بعد بہت سوچ و بچار اور مشوروں کے نتیجہ میں ۱۹۰۶ء کی ابتداء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ ایک دینیات کی علیحدہ شاخ زائد کر دی گئی۔جس میں عربی اور دینیات کی اعلی تعلیم کے علاوہ دوسرے مذاہب کے متعلق بھی تعلیم دی جاتی تھی۔اور ساتھ ہی دوسری زبا نہیں مثلاً انگریزی اور سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جاتی تھیں اور کسی حد تک سائنس کی تعلیم بھی دی جاتی اور ساتھ ساتھ تقریر و تحریر کی مشق بھی کروائی جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء میں دینیات کی شاخ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول سے کاٹ کر