جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 251
251 اس وقت ممبران بورڈ قضاء مرکزیہ کی تعداد 21 ہے۔اس وقت دار القضاء میں 24 مرکزی قاضی صاحبان اپنے فرائض انجام دینے کی توفیق پارہے ہیں۔قاضی صاحبان کے علاوہ عائلی معاملات میں لوگوں کی مدد کے لئے 7 مربیان اور ایک معلم وقف جدید بطور نمائندہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔فیملی کیسز کے علاوہ دیگر معاملات میں سرکاری وکلاء لوگوں کی معاونت کے لئے قضاء میں پیش ہوتے ہیں۔تاہم کسی بھی وکیل کے لئے ضروری ہے کہ وہ قضاء میں پیش ہونے سے قبل مکرم صدر صاحب بورڈ قضاء مرکزیہ سے اس کی اجازت حاصل کرے جس کا با قاعدہ ایک طریق کار ہے۔یہ منظوری ناظم دارالقضاء کے دستخطوں سے جاری کی جاتی ہے۔یکم جنوری 2006ء سے دارالقضاءر بوہ میں رجسٹرڈ ہونے والے کیسز کا جملہ ریکارڈ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے جس کو روزانہ کی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔الحمد للہ علی ذالک استفاده از انعام یافتہ مقالہ بعنوان : حضرت مصلح موعود کے قضائی فیصلے ” مرتبہ مکرم محترم نصیر احمد چوہدری صاحب مربی سلسله قاضی و نائب ناظم دارالقضاء ر بوه) تنفيذ : دارالقضاء کے فیصلہ پر عملدرآمد بذریعہ نظارت امور عامہ کروایا جاتا ہے۔جب کسی مقدمہ کا فائنل فیصلہ ہو جاتا ہے اور فریقین کے لئے مزید کسی بھی سطح پر اپیل کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔یا کوئی فریق اپیل کے حق کے باوجود اپیل کرنا نہیں چاہتا۔تو اس مقدمہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے فریقین میں سے کوئی ایک فریق دار القضاء میں متعلقہ مقدمہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے تحریر درخواست پیش کرتا ہے۔جس پر دارالقضاء متعلقہ مقدمہ کے فیصلہ کو بغرض تنفیذ نظارت امور عامہ کی طرف بھجوا دیتی ہے اور پھر نظارت امور عامہ اس فیصلہ کے مطابق فریقین سے عملدرآمد کرواتی ہے۔دارالقضاء کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ فریق کو تعزیر ہوسکتی ہے۔لہذا دار القضاء کے فیصلہ پر فریقین کیلئے عملدرآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔