جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 252 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 252

252 بہشتی مقبرہ کا قیام ۱۹۰۵ء کے آخر میں حضرت بانی سلسلہ کو اپنی وفات سے متعلق بڑی کثرت سے الہامات شروع ہو گئے۔چنانچہ سب سے پہلے ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو آپ نے دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک برتن میں مصفی اور ٹھنڈا را پانی پیش کیا گیا۔جو بقدر دو یا تین گھونٹ کے تھا۔اور اس کے ساتھ ہی آپ کو الہام ہوا۔”آب زندگی یعنی یہ تیری بقیہ زندگی کا پانی ہے۔اس کے بعد الہام ہوا۔قَلَّ مِبْعَادُ رَبّک یعنی تیری زندگی کی میعاد تھوڑی رہ گئی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔” خدا کی طرف سے بہت اداسی چھا گئی۔“ پھر ۲۹ نومبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا۔قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ وَلا نَبْقِى لَكَ مِنْ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا۔یعنی تیری مقد روفات کا وقت قریب آ گیا اور ہم تیرے پیچھے کوئی رسوا کرنے والی بات نہیں رہنے دیں گے پھر ۱۴ دسمبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا۔جَاءَ وَقْتُكَ وَنَبْقِي لَكَ الْآيَاتُ الْبَيِّنَاتُ “ یعنی تیر ا وقت آن پہنچا ہے۔اور ہم تیرے پیچھے تیری تائید میں روشن نشانات قائم رکھیں گے۔اسی طرح اور بھی بہت سے الہامات ہوئے جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب آپ کی وفات کا وقت بالکل قریب آ گیا ہے۔اس پر آپ نے رسالہ الْوَصِيَّة“ کے عنوان سے ایک وصیت لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں ان سارے الہامات کو درج کر کے اس بات کو ظاہر کیا کہ اب میری وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔اور آپ نے اپنی تعلیم کا خلاصہ بیان کر کے جماعت کو نصیحت فرمائی۔کہ وہ آپ کے بعد آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر قائم رہے اور درمیانی ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی سنت اللہ کے ماتحت ضروری ہوتا ہے۔اور آپ نے لکھا کہ نبی کا کام صرف تخم ریزی تک محدود ہوتا ہے۔پس میرے ذریعہ سے یہ تخم ریزی ہو چکی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی۔اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔آپ نے یہ بھی لکھا کہ بسا اوقات ایک نبی کی وفات ایسے وقت میں ہوتی ہے جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے اندر رکھتا ہے اور مخالف لوگ ہنسی اور ٹھٹھا اور طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب یہ سلسلہ مٹ گیا۔اور بعض کمزور مومن بھی ڈگمگانے لگتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ اپنی دوسری قدرت کو ظاہر فرماتا ہے اور خلفاء کے ذریعہ بظاہر گرتی ہوئی عمارت کو اپنی طاقت اور نصرت کا ثبوت دیتا ہے اور دشمن کی خوشی خاک میں مل جاتی ہے۔اس کے علاوہ حضرت بانی سلسلہ نے اپنی اس وصیت میں خدا کے حکم سے جماعت کے لئے ایک خاص