جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 234
234 تعداد میں مختلف حالات کے پیش نظر ترمیم ہوتی رہتی ہے۔منتخب نمائندوں کے علاوہ تمام جماعتوں کے امراء بحیثیت اپنے عہدے کے اس مجلس کے ممبر ہوتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کے رفقاء کو بھی بحیثیت رفیق نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں مرکزی تنظیمات کو بھی مجلس مشاورت میں بحیثیت عہدیدار مختلف شعبوں کی نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے اور یہ طریق بھی مسلسل جاری ہے کہ خلیفہ وقت منتخب نمائندگان کے علاوہ ایسے اہل علم وفن دوستوں اور بزرگوں کو بھی براہ راست دعوت بھیجتے ہیں جن کی شمولیت خلیفہ اسیح کے نزدیک کسی پہلو سے مفید ہو سکتی ہے۔مجلس مشاورت کے قواعد وضوابط ۱- مجلس مشاورت سے مراد وہ مجلس شوریٰ ہے جسے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اہم کاموں کے متعلق مشورہ لینے کے لئے اور خصوصاً بجٹ کے متعلق جماعت احمدیہ کی رائے معلوم کرنے کے لئے خلیفہ اسی وقتا فوقتا طلب فرمائیں۔اس مجلس کے ممبران مقامی جماعتوں کے نمائندے، ناظران صیغہ جات ہمبران صدر انجمن احمدیہ، سیکرٹری مجلس کار پرداز مصالح قبرستان، ایسے صیغہ جات کے افسران جو کسی نظارت کے ماتحت نہیں ، دیگر محکمانہ نمائندے نیز انجمن احمد یہ تحریک جدید، انجمن احمد یہ وقف جدید، مجالس انصاراللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ کے نمائندے ، اور ایسے زائد اصحاب ہوتے ہیں جنہیں خلیفہ اسیج اس غرض کے لئے منظور یا نامزد فرمائیں۔( قاعدہ نمبر ۳۱) ۲۔مجلس مشاورت میں صدر انجمن احمدیہ کے نمائندوں کی تعداد ۳۰، انجمن احمد یہ تحریک جدید کے نمائندوں کی تعداد۲۳ اور انجمن احمد یہ وقف جدید کے نمائندوں کی تعداد 9 ہوتی ہے۔نیز مجلس انصاراللہ جلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے نمائندوں کی تعداد کا تعین حسب منظوری خلیفتہ اسیح ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۳۲)۔مستورات مجلس مشاورت کی نمائندہ ہوتی ہیں۔جن کی تعداد کا تعین و منظوری کی کارروائی بذریعہ صدر لجنہ اماءاللہ پاکستان ہوتی ہے۔نمائندہ مستورات کے لئے ضروری ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۳۳) الف: مخلص مبائع اور صائب الرائے ہواور سلسلہ کی طرف سے زیر تعزیر نہ ہو۔ب:۔شعائر اسلامی کی پابند ہو۔ج:۔برسر روزگار اور آمد ہونے کی صورت میں لازمی چندہ ادا کرتی ہواور بقایا دار نہ ہو۔۴۔پرائیویٹ سیکرٹری خلیفتہ اسی مجلس مشاورت کے سیکرٹری ہوتے ہیں۔مجلس مشاورت کا انعقا داور جملہ انتظامات پرائیویٹ سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۳۴)