جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 225
225 تیار کرتے رہنا اور تمام قسم کی ملازمتیں اور کام اور پیشے جو افراد جماعت کے لئے مفید ہوں ان کی فہرست تیار کرنا اور ان کے حاصل کرنے کے لئے احمدیوں میں تحریک کرنا اور مناسب طور پر ان کی مدد کرنا اور وہ پیشے جو زیادہ تر جماعت کی دینی و دنیاوی ترقی کے باعث ہوں ان کی فہرست تیار کرنا اور ذہنی مناسبت کے مطابق افراد جماعت کو ایک انتظام اور مناسب تقسیم کے ماتحت ان کے سیکھنے کی طرف متوجہ کرنا یہ سب کام نظارت امور عامہ سے متعلق ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۹۹) ۵۔سلسلہ سے متعلق وہ تمام امور جو کسی دوسری نظارت یا صیغہ کے سپردنہیں وہ اس نظارت سے متعلق سمجھے جاتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۲۰۰) ۶۔نظارت امور عامہ صرف ایسے امور میں دخل دینے کا اختیار رکھتی ہے جو انتظامی نوعیت کے ہوں اور سلسلہ کے حقوق سے متعلق ہوں۔تنازعات کی صورت میں فریقین کی باہمی رضا مندی سے جھگڑوں کو دور کروانا اور صلح صفائی کروانا اس نظارت کے سپرد ہوتا ہے لیکن قضائی معاملات کا نظارت ہذا کو فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔باہمی تصیفہ میں ناکامی کی صورت میں نظارت ثالثی طریق یا قضا کے ذریعہ معاملات طے کروانے کا مشورہ دے سکتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۰۱) ے۔ناظر امور عامہ کو کسی رنگ میں بھی قاضی بنے کا اختیار نہیں ہوتا۔یعنی اس کو صرف ایسے کاموں میں دخل دینے کا حق ہوتا ہے جو انتظامی ہوں اور افراد کے حقوق سے تعلق نہ رکھتے ہوں بلکہ سلسلہ کے حقوق سے تعلق رکھتے ہوں۔اس کو ہر گز کسی شخص معاملہ میں سزا دینے کا حق نہیں ہوتا۔یہ قضاء کا کام ہے۔اس کا کام قضاء کے فیصلوں کی تنفیذ تک محدود ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۰۲)۔جن باہمی تنازعات میں تصیفہ کرانا بذمہ نظارت امور عامہ ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کا تصفیه جلد از جلد کروادے۔( قاعدہ نمبر ۲۰۳)۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بی انتظام ناظر امور عامہ کے سپرد ہوتا ہے جو بذریعہ فضل عمر ہسپتال یا جس طرح نظارت امور عامہ مناسب خیال کرے سرانجام دیا جاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۰۴) ۱۰۔مرکز سلسلہ میں زمین، دوکان، مکان کی خرید و فروخت یالیز پر یا کرایہ پر حاصل کرنے یا مستقل رہائش اختیار کرنے یا کاروبار کرنے کے لئے اس نظارت کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۰۵) ۱۱۔نظارت امور عامہ کے ذمہ ان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفہ امسیح کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۲۰۶)