جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 216
3- گواه: 216 لڑکی کے دو گواہ ولی کے علاوہ ہونے چاہئیں۔نیز دیگر تمام گواہ بھی عاقل بالغ ہوں اور قریبی ہوں تا بوقت ضرورت آسانی سے دستیاب ہو سکیں۔4۔مہر: حضرت مصلح موعود نے مہر کی تعین کے متعلق لڑکے کی چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمد کا مشورہ دیا ہے۔فارم پر حق مہر الفاظ اور اعداد دونوں صورتوں میں لکھا جائے۔اگر ادا ئیگی بصورت زیور ہو تو تفصیل میں کانٹے ، ہار، چوڑیاں وغیرہ کی تعداد اور وزن لکھیں۔جزوی ادائیگی کی صورت میں ادا شدہ رقم اور بقیہ رقم درج کریں۔ایک استثنائی پہلو سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت کی روشنی میں بعض انتظامی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعتی طور پر اس بات کی پابندی کروائی جاتی ہے کہ یو کے سے جولڑ کے پاکستان میں آ کر نکاح کرتے ہیں ان کا حق مہر کم از کم دس ہزار پونڈ ہو، کینیڈین لڑکے کے لئے حق مہر کی رقم کم از کم دس ہزار کینیڈین ڈالر ہو اور جرمن لڑکے کے لیے مہر کی رقم کم از کم سات ہزار یورو ہو۔5 تصدیق لڑکا اورلڑ کی جہاں جہاں رہائش رکھتے ہوں اسی جماعت یا حلقے کے صدر صاحب/ امیر صاحب کی تصدیق کروائیں۔تصدیق کیلئے دستخط اور مہر ضروری ہیں۔لڑکے یا لڑکی کے بیرون ملک ہونے کی صورت میں متعلقہ ملک کے نیشنل امیر کی تصدیق ضروری ہے نہ یہ کہ جہاں ان کا آبائی گھر وغیرہ ہے وہاں سے تصدیق کرائی جائے۔اگر لڑکا یا لڑکی نکاح کے وقت پاکستان میں موجود ہوں تب بھی ان کی تصدیق ان کے متعلقہ ملک کے امیر صاحب کی طرف سے ہونی ضروری ہے۔یادر ہے کہ بیرون ملک لوکل صدر جماعت کی نہیں بلکہ نیشنل امیر صاحب کی تصدیق ( دستخط مع مہر ) مطلوب ہے۔(صرف جرمنی کے نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ کے دستخط ہوتے ہیں۔) 6۔نکاح ثانی اگر لڑکے یا لڑکی کا نکاح اول نہ ہو تو طلاق یا خلع کی صورت میں مصدقہ طلاق نامہ اضلع نامہ نکاح کے ساتھ لگانا ضروری ہے۔( تصدیق ہدایت نمبر 5 کے مطابق کروائیں) یاد رہے کہ خلع کی کارروائی قضاء یا عدالت کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔قضاء کے فیصلے کی صورت میں امور عامہ کا تنفیذ شدہ فیصلہ ضروری ہے اور جس تاریخ کولڑ کا طلاق نامہ پر دستخط کرے، اُسی تاریخ سے عدت شمار ہوگی۔( رخصتی کی صورت میں عدت تین ماہ ہوتی ہے)