جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 208
208 کی نمائندگی کرتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۰۰) ناظر اعلیٰ کا فرض ہوتا ہے کہ مختلف نظارتوں اور صیغہ جات سے ان کے صیغہ کے کام کی سالانہ رپورٹیں مالی سال کے شروع میں دوماہ کے اندراندر منگوا کر اپنے انتظام میں طبع کرائے۔( قاعدہ نمبر ۱۰) ناظر اعلیٰ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مقامی۔حلقہ وار ضلع وار۔علاقہ وار۔صوبہ وار۔ملک وار ( جیسی بھی صورت ہو ) حسب قواعد عہدہ داران کے انتخابات اپنی نگرانی میں کروائے اور ان کی منظوری سے اطلاع دے۔( قاعدہ نمبر ۱۰۲) علیاء کمیٹی بھی اسی نظارت کے تحت کام کرتی ہے۔ناظر اعلی کے ذمہ ان دیگر فرائض کی بجا آوری ہوتی ہے جو خلیفہ اسیح کی طرف سے اس کے سپرد کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر۱۰۳) نظارت دیوان ا۔سلسلہ کے فرائض دربارہ صدر انجمن احمدیہ کے انتظامی شعبہ جات کے عملہ کی بھرتی کا حسب قواعد انتظام کرنے کے لئے ایک نظارت دیوان ہے اور اس کا انچارج ناظر دیوان کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۰۴) ۲۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کی ضرورت کے مطابق اس کے انتظامی شعبہ جات کے لئے کارکنان اور واقفین زندگی کے حصول کے لئے تحریک کرے اور جو درخواستیں آئیں ان میں سے حسب قواعد انتخاب کروائے۔( قاعدہ نمبر ۱۰۵) ۳۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ اگر صد را مجمن احمدیہ اپنا کوئی کارکن عاریہ کسی دوسرے ادارے مثلاً انجمن احمد یہ تحریک جدید، انجمن احمد یہ وقف جدید کو دے یا کسی ادارہ کا کوئی کارکن عاریۂ صدرانجمن احمدیہ کے کام کے لئے لے تو اس کے حقوق کی تعین و تحفظ کے لئے حسب منظوری صدر انجمن احمدیہ تحریری معاہدہ کرے ( قاعدہ نمبر ۱۰۶) ۴۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ جملہ کارکنان کی سروس بکوں کی مکمل نقول رجسٹر کی صورت میں رکھے اور اس امر کی نگرانی کرتا رہے کہ یہ ریکارڈ تا تاریخ تقریر مکمل رہے۔ہرصیغہ کے کارکنان کی سروس بکیں متعلقہ صیغہ جات میں رہتی ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۰۷) ۵۔جملہ صیغہ جات کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے اپنے صیغہ جات کے عملہ کی ترقی۔سزا یا رخصتوں کے متعلق جو بھی فیصلہ کریں اس کی ایک نقل ناظر دیوان کو بھی بھجوائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۰۸) ۶۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ جملہ کارکنان صدر انجمن احمدیہ کی کیڈرلسٹیں ہر وقت مکمل رکھے۔( قاعدہ نمبر ۱۰۹)