جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 207 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 207

207 صیغہ کو جوکسی نظارت کے ماتحت نہیں جاری کرے۔لیکن اگر اس ناظر یا افسر صیغہ کو ناظر اعلیٰ کی ہدایات یا احکامات پر اعتراض ہوتو وہ اپنا اعتراض ناظر اعلیٰ کے سامنے پیش کرے۔اگر ناظر اعلیٰ اس اعتراض کو زیر غور لانے کے بعد بھی اپنی ہدایات یا احکامات کی تعمیل پر اصرار کرے تو متعلقہ ناظر یا افرصیغہ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ناظر اعلیٰ کی ہدایات یا احکامات کی تعمیل کرے۔البتہ اس ناظر یا افسر صیغہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ناظر اعلیٰ کی ہدایات یا احکامات اور اپنے اعتراض کو بتوسط ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ میں بھجوائے اور پھر صدر انجمن احمد یہ جو فیصلہ کرے اس پر عملدرآمد ہو۔ایسی صورت میں صدر صدر انجمن احمدیہ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو ناظر اعلیٰ کی ہدایات یا احکامات پر عملدرآمد صدرانجمن احمدیہ کے فیصلہ تک مؤخر کر دے۔لیکن مندرجہ ذیل امور کے متعلق ناظر اعلیٰ کی ہدایات بہر حال جملہ ناظران و افسران صیغہ جات کے لئے جو کسی نظارت کے ماتحت نہیں واجب التعمیل ہوتی ہیں۔( قاعدہ نمبر ۹۸) الف: کسی ناظر یا افسر صیغہ کوکسی مشورہ کے لئے اپنے پاس بلا نا۔ب: کسی تقریب پر صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت محکموں اور دفتروں کو رخصت دینا۔ج:۔دفاتر کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کرنا۔: یہ طالبہ کرنا کہ کوئی ناظر یا افرصیغہ کی امرمیں اپنا عذر یا جواب یا درخواست پذیر یعہ تحریر پیش کرے۔: کسی ناظر یا افرصیغہ کے رخصت پر جانے کی صورت میں بمنظوری خلیفہ اسیح قائمقام مقرر کرنا۔ربوہ سے باہر اپنے محکمانہ کام کی انجام دہی کے لئے آن ڈیوٹی جانے پر کسی کو انچارج مقرر کرنا۔و :۔دو ناظروں میں کسی بات میں اختلاف ہو جانے پر کہ یہ کام کس نظارت کے دائرہ عمل میں آ سکتا ہے فیصلہ کرنا۔ف: کسی ناظر ، نائب ناظر اور افسر صیغہ کو رخصت اتفاقیہ دینا۔ح:۔ناظران و نائب ناظران و افسران صیغہ جات رخصت یا آن ڈیوٹی ربوہ سے باہر جانے کی اجازت بتوسط ناظر اعلیٰ خلیفہ اسیح لیتے ہیں۔۔ناظر اعلیٰ کا فرض ہوتا ہے کہ خلیفہ مسیح کے نذرانہ کا معاملہ پانچ سال بعد لازماً حسب ضرورت اس سے قبل مجلس مشاورت میں پیش کرے۔( قاعدہ نمبر ۹۹) ناظر اعلی کو اختیار ہوتا ہے کہ مقامی جماعتوں کے کام کی نگرانی اور ان کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ناظر ان کے دورہ جات کا با قاعدہ پروگرام مرتب کروائے اور ان کی نگرانی کرے کہ ایسے دورے بروقت کئے جائیں۔اور ایسے دورہ جات پر جانے والے ناظران سب نظارتوں