جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 195 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 195

195 بھی مانوں گا“۔محترم خواجہ صاحب نے بعد ازاں یہ بھی تسلیم کیا کہ ” جب میں نے بیعت ارشاد کی۔۔۔یہ بھی کہا کہ میں آپ کا حکم بھی مانوں گا اور آنے والے خلیفوں کا حکم لیکچراندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب ص ۶۹۔۷ دسمبر ۱۹۱۴ء) تلخیص از رساله خلافت احمد یہ از انجمن انصار اللہ قادیان سن 1913ء) ایک فیصلہ کن سوال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک بار قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ:۔اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال ہے جو ہماری جماعت کے دوستوں کو یا درکھنا چاہئے اور ہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ یہی لوگ جو آج کہتے ہیں کہ الوصیت سے خلافت کا کہیں ثبوت نہیں مانتا ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے ایک اعلان شائع کیا ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے وقت انہوں نے کیا۔پس جماعت کے دوستوں کو ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہئے اور پوچھنا چاہئے کہ تم ہمیں الوصیت کا وہ حکم دکھاؤ جس کے مطابق تم نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔اس کے جواب میں یا تو وہ یہ کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا اور یا یہ کہیں گے کہ الوصیت میں ایسا حکم موجود ہے اور یہ دونوں صورتیں ان کے لئے کھلی شکست ہیں“۔الفضل ۲۱ شہادت، اپریل ۱۹۴۰ / ۱۳۱۹ ش ص ۶ خطبہ جمعہ حضرت مصلح موعودؓ ) شخصی خلافت پر سب سے بڑی شہادت حضرت مسیح موعود کے بعد آپ کی جانشین شخصی خلافت پر سب سے بڑی دلیل خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہے۔نظام خلافت سے وابستہ جماعت مبائعین کا موازنہ غیر مبائعین سے کر کے بآسانی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کس کے ساتھ ہے۔نظام خلافت سے وابستہ لوگوں کے ساتھ یا منکرین خلافت کے ساتھ۔جماعت احمد یہ مبائعین آج خدا کے فضل اور خلافت کی برکت سے ۱۹۱۸ ممالک میں نفوذ کر چکی ہے۔جبکہ غیر مبائعین کی حالت ایسے ہی ہے جیسے آخری شب کا چراغ ہوتا ہے۔جس کی زندگی چند لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔آخر پر ہم ایک غیر کی شہادت پیش کرتے ہیں جس سے جماعت احمدیہ مبائعین کی ترقی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔