جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 149
149 افق احمدیت پر خلافت کا ایک چاند غروب ہوا تو ایک اور چاند طلوع ہوا۔اسی طرح روشن اور چمکتا ہوا اور نور آسمانی سے جگمگاتا ہوا۔جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الاول نے آسمان احمدیت کو روشن کئے رکھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اس موقع پر بڑے دلنشین انداز میں احمدیت کے ایک رخصت ہوتے ہوئے خلیفہ کو الوداع اور ایک قدم رنجہ فرماتے ہوئے خلیفہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔”اے جانے والے تجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام ومطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی۔جا! اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارک باد کا تحفہ لے اور رضوان یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر اور اے آنے والے! تجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے والی گرجوں میں مسند خلافت پر قدم رکھا اور قدم رکھتے ہی رحمت کی بارشیں برسادیں۔تو ہزاروں کا نپتے ہوئے دلوں میں سے ہو کر تخت امامت کی طرف آیا اور پھر ایک ہاتھ کی جنبش سے ان تھراتے ہوئے سینوں کو سکینت بخش دی۔آ! اور ایک شکور جماعت کی ہزاروں دعاؤں اور تمناؤں کے ساتھ ان کی سرداری کے تاج کو قبول کر۔تو ہمارے پہلو سے اٹھا ہے مگر بہت دور سے آیا ہے۔آ! اور ایک قریب رہنے والے کی محبت اور دور سے آنے والے کے اکرام کا نظارہ دیکھے۔( سلسلہ احمدیہ ص ۳۲۴- شائع کردہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان) حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے مختصر سوانح حیات حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی مورخ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء بروز ہفتہ قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی حرم ثانی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے بطن سے حضور کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔آپ کی ولادت با سعادت الہی بشارتوں کے مطابق ہوئی۔جو ہستی باری تعالیٰ ، آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کی علامات میں سے ایک علامت یہ بتائی تھی کہ: يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ۔(مشکوۃ باب نزول عیسی) یعنی وہ خدا تعالیٰ کی منشاء خاص سے ایک شادی کرے گا جس سے اس کے ہاں غیر معمولی خصوصیات کی حامل اولاد ہوگی۔اس حیثیت پاک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام مبشر اولاد بالعموم اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بالخصوص مراد اور مصداق ہیں۔پھر آپ کا وجود اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنے کا موجب بنا جو جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے مشہور