جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 143
143 ۱۸۹۳ء میں جبکہ مکان کی تعمیر ابھی جاری تھی آپ کسی کام کے لئے لاہور تشریف لے گئے وہاں پر آپ کو حضرت مسیح موعود کی زیارت کا خیال آیا۔چنانچہ آپ قادیان تشریف لے گئے۔حضور نے فرمایا اب تو آپ ملازمت سے فارغ ہیں۔یہاں رہیں۔حضرت مولوی صاحب نے سمجھا کہ دو چار روز اور ٹھہر لیتا ہوں۔ایک ہفتہ بعد حضور نے فرمایا آپ اکیلے یہاں رہتے ہیں اپنی بیویوں کو بھی یہیں منگوالیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے دونوں بیویوں کو بلالیا۔پھر ایک دن حضور نے فرمایا۔آپ کو کتابوں کا شوق ہے اپنا کتب خانہ بھی یہیں منگوا لیں۔چنانچہ کتب خانہ بھی بھیرہ سے قادیان آ گیا۔چند دنوں کے بعد حضور نے فرمایا۔مولوی صاحب! اب آپ وطن کا خیال چھوڑ دیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ” میں نے وطن کا خیال ایسے چھوڑ دیا کہ کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا“۔قادیان میں ہجرت کے بعد کئی لوگوں نے آپ کو لاہور یا امرتسر میں جا کر شفاخانہ کھولنے کی تحریک کی لیکن آپ نے اپنے آقا کے قدموں میں ہی رہنا پسند کیا۔یہیں پر دن رات دین کی خدمت کرنے میں مصروف رہے اور ہر وقت حضرت مسیح موعود کی ہدایت اور حکم کی تعمیل کرنے کے لئے تیار رہتے۔مریضوں کو دیکھتے۔قرآن وحدیث کا درس دیتے نمازیں پڑھاتے۔وعظ و نصیحت کرتے۔حضور کی کتب کے پروف پڑھنے اور حوالے نکالنے کا کام کرتے تھے۔جب کالج جاری ہوا تو اس میں عربی پڑھاتے تھے۔جب صدر انجمن احمد یہ قائم ہوگئی تو حضرت مسیح موعود نے آپ کو اس کا پریذیڈنٹ مقرر فرما دیا۔پھر غرباء کی امداد اور ہمدردی کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے۔غرض قادیان آ کر حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی دین کے لئے بالکل وقف کر دی۔صبح سے شام تک اسی میں مصروف رہتے۔پہلے حضرت مسیح موعود کے مکانات کے قریب ہی اپنا کچا مکان تعمیر کرا کے اس میں رہائش اختیار کر لی۔بیماروں کے علاج سے جو آمدنی ہوتی اس کا بھی زیادہ تر حصہ چندہ کے طور پر حضور کی خدمت میں پیش کر دیتے یا تیموں اور غریبوں کی پرورش میں صرف کر دیتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات حضرت خلیفہ اول چند ماہ بیمار رہنے کے بعد ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو جمعہ کے دن سوا دو بجے بعد دو پہر قادیان میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ط ۱۴/ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی منتخب ہو جانے کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد ہزاروں احمدیوں نے دین حق کے، قرآن مجید کے، آنحضرت ﷺ کے اور حضرت مسیح موعود کے اس عاشق صادق کو جو اپنے اندر بے نظیر خوبیاں رکھتا تھا اور عمر بھر دین کی خدمت کرتا رہا۔بہشتی مقبرہ قادیان میں حضرت مسیح موعود کے مزار کے پہلو میں دفن کر دیا۔