جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 142
142 نمبر پر بیعت کرنے کا فخر حاصل کیا۔۱۸۹۰ء میں جب حضور نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر بلا تامل حضرت ابو بکر کی طرح آپ حضور کے دعوی پر ایمان لے آئے۔حضرت مولوی صاحب کی پہلی شادی تمیں برس کی عمر میں بمقام بھیرہ مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی کی صاحبزادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی۔آپ کی یہ اہلیہ ۱۹۰۵ء میں وفات پاگئی۔اس اہلیہ کے بطن سے بیٹے اور 2 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔مگر ایک بیٹی حفصہ اور دوسری امامہ بڑی بڑی عمر کی تھیں۔باقی بچے کم عمری میں ہی فوت ہوئے۔آپ کی دوسری شادی ۱۸۸۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کی صاحبزادی حضرت صغری بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ان کی وفات ۱۹۵۵ء میں بمقام ربوہ ہوئی۔ان کے بطن سے بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی کتب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل آپ نے ۸۸-۱۸۸۷ء میں حضرت مسیح موعود کی تحریک پر عیسائیت کے رد میں ایک کتاب «فصل الخطاب“ شائع فرمائی۔پھر ۱۸۹۰ء میں حضور کی زیر ہدایت پنڈت لیکھرام کی کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں ” تصدیق براہین احمدیہ لکھی۔اسی طرح ایک مرتد آریہ دھرم پال ( سابق عبد الغفور ) نے ” ترک اسلام “ نامی ایک کتاب لکھی جس کے جواب میں آپ نے ایک مفصل کتاب ”نورالدین کے نام سے تصنیف فرمائی۔۱۹۰۴ء میں آپ نے ایک رسالہ بعنوان ابطال الوہیت مسیح عیسائیت کے رد میں تصنیف فرمایا۔اسی طرح لڑکوں اور لڑکیوں کو مسائل نماز سے عام فہم الفاظ میں واقف کرنے کے لئے جنوری ۱۹۰۶ء میں دینیات کا پہلا رسالہ تالیف فرمایا۔جو بہت مقبول ہوا۔ملازمت سے فراغت اور قادیان میں ہجرت ۱۸۹۲ء میں ریاست جموں و کشمیر سے آپ کی ملازمت کا سلسلہ جو ۱۸۸۶ء میں قائم ہوا تھا ختم ہو گیا۔آپ نے ریاست میں قرآن کریم کے درس و تدریس اور تبلیغ دین حق کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا وہی اس ملازمت کے خاتمہ کا موجب ہوا۔مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات پر اس کے جانشین مہاراجہ پرتاپ سنگھ اور اس کے چند درباری اسلام سے اور حضرت مولوی صاحب سے خاص بغض و تعصب رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے آپ کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔آپ وہاں سے واپس اپنے وطن بھیرہ تشریف لے آئے جہاں پر آپ نے وسیع پیمانے پر ایک شفا خانہ قائم کرنے کا ارادہ کیا اور عالی شان مکان کی تعمیر شروع کروادی۔