جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 135
135 بنیادی قانون ضروری نوٹ :۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آئندہ کے لئے انتخاب خلافت کے لئے مذکورہ بالا اراکین اور قواعد کی منظوری کے ساتھ بطور بنیادی قانون کے فیصلہ فرمایا ہے کہ:۔آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوریٰ کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔مجلس علماء کی یہ تجو یز درست ہے ( دستخط ) مرزا محموداحمد خلیفۃ السیح الثانی ۲۰_۳۵۷ مجلس علماء سلسلہ احمدیہ ۱۸-۳۵۷ (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۱۹ صفحه ۱۶۹ تا ۱۷۲) مجلس انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھاتا ہے:۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے انتخابات مذکورہ بالا قواعد کی روشنی میں ہی ہوئے۔جبکہ ۱۹۸۴ء میں پاکستان کے مخصوصی جماعتی حالات کے پیش نظر خلافت احمد یہ لندن برطانیہ منتقل ہو گئی۔تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مخصوص حالات کے پیش نظر ان قواعد میں بعض تبدیلیاں فرمائیں اور آئندہ خلیفہ وقت کے انتخاب کے لئے بعض مزید ہدایات وضع فرمائیں۔جن کی روشنی میں خلافت خامسہ کا انتخاب عمل میں آیا۔موجودہ قواعد انتخاب خلافت مذکورہ بالاقواعد میں ترمیمات کے بعد موجودہ قواعد انتخاب خلافت حسب ذیل ہیں:۔۱۹۸۴ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کو ہجرت کر کے لندن جانا پڑا اس وقت حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اگر ان حالات میں انتخاب خلافت کا وقت آ جائے تو مخالف احمدیت عناصر اس کارروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس لئے