جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 118
118 کے قیام کی مناسبت سے جلسے، سیمینارز اور اجلاسات تمام جماعتہائے احمد یہ عالمگیر میں منعقد کئے جاتے ہیں جن میں جماعت احمد یہ کے قیام کی غرض و غایت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیدا کردہ روحانی انقلاب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔اور اس روز تمام احمدی حقیقی احمدی بننے کا عہد نو کرتے ہیں۔پس اس لحاظ سے یہ دن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ۱۲ ؍ ربیع الاول کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔یوم خلافت اللہ تعالیٰ کے انبیاء جن مقاصد کے تحت مبعوث ہوتے ہیں۔ان مقاصد کو ان کی وفات کے بعد جاری رکھنے کے لئے نظام خلافت قائم کیا جاتا ہے۔کیونکہ انبیاء تو محض ایک تخمریزی کرنے آتے ہیں اور اس تخمریزی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے پودے یعنی انبیاء علیھم السلام کی قائم کردہ جماعت کی روحانی آبیاری کے لئے خلفاء کا سلسلہ جاری کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مَا كَانَتْ نَبُوَّةً قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ (الجامع الصغير لليسوطى الجز الثانی صفحه ۲۶ ۱ مطبوعه مصر سن ۱۳۰۶ هجری) ترجمہ : یعنی کوئی نبی نہیں گذرا جس کے بعد نظام خلافت جاری نہ ہوا ہو۔پس اسی حقیقت اور ضرورت کے پیش نظر احادیث صحیحہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ امت محمدیہ میں بھی آخری دور میں اسی طرح کی کامل خلافت راشدہ کا قیام مقدر تھا جس طرح کی اسلام کے دور اول میں قائم ہوئی تھی۔جس کا ذکر مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۴ ص ۲۷۲ کی اس حدیث ثم تَكُونُ الْخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ میں کیا گیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ کے پروگرام اور مشیت کے تحت جب مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی اگلے ہی روز مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو خلافت احمدیہ کا قیام عمل میں آ گیا۔پس اسی مناسبت اور پس منظر کے تحت اس دن کو جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ”یوم خلافت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اور ہر سال اس دن کو خصوصی طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا آغاز بھی باجماعت نماز تہجد سے کیا جاتا ہے۔اور اس روز بھی تمام جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر میں یوم خلافت کے عنوان سے جلسے، سیمنارز اور اجلاسات منعقد کئے جاتے ہیں۔جن میں نظام خلافت کی ضرورت و اہمیت، اغراض و مقاصد اور برکات وثمرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔نیز