جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 117 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 117

117 پس اس پہلو سے یہ دن مذہبی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم اور مبارک ہے۔کیونکہ اس دن اس عظیم ہستی کی پیدائش ہوئی جس کے لئے یہ کائنات تخلیق کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی اس دن کو ہر لحاظ سے اولیت اور فوقیت حاصل ہے۔اور جماعت احمد یہ اس دن کو خالصۂ روحانی اور دینی جوش و جذبہ سے منانے کا اہتمام کرتی ہے۔اور اس روز جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر میں ہر جگہ سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر جلسے، سیمینارز اور اجلاسات منعقد کئے جاتے ہیں۔اور اس دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوتا ہے اور ہر فرد جماعت اس روز زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔اور جلسوں ، سیمینار اور اجلا سات میں آنحضرت ﷺ کا عظیم مقام ، آنحضرت ﷺ کے بنی نوع انسان بلکہ پوری کائنات پر احسانات اور آپ میے کی سیرۃ طبیہ کے مختلف پہلوؤں پر تقاریر ، لیکچرز اور درس دیئے جاتے ہیں۔اور اس روز آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا ذکر کر کے ہر احمدی آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی اور تقلید کرنے کا عزم نو کرتا ہے۔پس یہ دن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم ہے۔یوم سیح موعود آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد آخری زمانہ میں بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت اور دجال کے فتنوں سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھنے اور بچانے کے لئے ایک مسیح موعود و مہدی مسعود کی پیشگوئی کی تھی۔اور اس کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی بیان فرمائی تھی کہ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب ہوگی جس مین اس پر ایمان لانے والے۳۱۳ صحابہ کے نام درج ہوں گے۔اور نیز امت محمدیہ کو اس پر ایمان لانے اور اس کی جماعت میں شامل ہونے کی تحریک اور تلقین بھی فرمائی تھی۔اور اس سلسلہ میں یہاں تک فرمایا تھا کہ خواہ تمہیں برف کے تو دوں پر سے گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑے آپ اس صورتحال کے باوجود اس تک پہنچنا اور اس پر ایمان لانا اور اس کی جماعت میں شامل ہونا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہدایت فرمائی تھی کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے ایک جماعت تشکیل دیں۔پس اس الہی منصوبہ کے پیش نظر اشاعت اسلام اور بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مورخہ ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو اس جماعت کی بنیاد رکھی۔جس کا تفصیلی ذکر باب نمبر ہ میں گذر چکا ہے۔پس اسی پس منظر کے تحت ہر سال اس دن کو یوم مسیح موعود کے نام سے منایا جاتا ہے۔اور اس دن کا آغاز بھی باجماعت نماز تہجد سے ہوتا ہے۔اور اس روز جماعت احمدیہ