جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 115
115 لہذا آپ کے بحیثیت نبی ہونے کے جماعت احمدیہ کے نزدیک آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔جبکہ لاہوری احمدی مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھتے۔چوتھا اختلاف:۔چوتھا اختلاف جماعت احمد یہ عالمگیر اور لاہوری احمدیوں میں یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء والی پسر موعود کی پیشگوئی جماعت احمد یہ مبائعین کے نزدیک اپنی کمال شان میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسی الثانی کے بابرکت وجود میں پوری ہو چکی ہے جبکہ لاہوری احمدیوں کے نزدیک یہ پیشگوئی ابھی تک پوری نہیں ہوئی اور ان کے نزدیک اس پیشگوئی کا مصداق پسر موعود آئندہ کسی زمانہ میں پیدا ہو گا۔حالانکہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء والی پیشگوئی کے شائع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر پسر موعود کی ولادت کے سلسلہ میں یہ بھی پیشگوئی فرمائی تھی کہ وہ موعود بٹا 9 سال کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہوگا لیکن اس کے باوجود غیر مبایعین اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ پسر موعود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی ہی ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے بشارت پا کر ۱۹۴۴ء میں مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔مذکورہ بالا تمام اختلافی مسائل کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے دیگر عقلی و نقلی دلائل کے علاوہ صرف یہی ایک معیار کافی ہے کہ جماعت احمد یہ مبائعین آج خدا کے فضل سے دنیا کے تقریباً دوفنڈ ممالک میں نفوذ کر چکی ہے اور اس کی تعداد کروڑوں میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے چندوں کی آمدار بوں روپوں میں داخل ہو چکی ہے جبکہ اس کے مقابل پر لاہوری غیر مبائعین احمدیوں کی تعداد دن بدن ختم ہورہی ہے۔اور اب آخری شب کے چراغ کی طرح صرف نیم مردہ حالت میں ٹمٹا رہے ہیں۔اور کہا جاسکتا ہے کہ عملاً یہ جماعت ختم ہو چکی ہے۔