جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 104
104 کیا انہوں نے اتنا نہ سوچا کہ وہ نہ تو ان سے کوئی معقول بات کرتا ہے اور نہ انہیں کوئی ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔مندرجہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ جو خدا کلام کرنے کی صفت سے عاری ہو چکا ہے وہ زندہ خدا کہلانے کا حقدار نہیں۔جبکہ خدا تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے اور اس کی تمام صفات ازلی و ابدی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ ایسا عقیدہ جس سے خدا تعالیٰ کی عالی شان میں نقص ما نالا زم آتا ہے۔درست نہیں۔٢۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ إِنْ لَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُو بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (حم سجده : ۳۱) ترجمہ:۔وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے۔پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلطی کا غم نہ کرو اور اسی جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔استدلال :۔اس آیت کریمہ میں فرشتوں کے نزول کے لئے تنزل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو فعل مضارع کا صیغہ ہے۔جس میں حال اور مستقبل دونوں زمانے پائے جاتے ہیں۔پس آیت کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ جو خدا ماضی میں فرشتوں کے ذریعہ اپنے نیک بندوں سے ہمکلام ہوتا تھا اور وہ خدا اب بھی وحی والہام کی صورت میں کلام کرتا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات دائمی ہیں۔احادیث ا۔لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ قَبْلِكُمُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلِّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءً فَإِنْ يَّكَ فِي أُمَّتِي اَحَدٌ فَعُمَرُ۔(بخارى كتاب المناقب باب ماجاء فی مناقب عمر) ترجمہ :۔تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گزرے ہیں جو نبی تو نہیں تھے مگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا تھا۔اگر میری امت میں ایسے (خوش نصیب ) ہوئے ہیں تو ان میں سے ایک عمر بھی ہوگا۔“ آنحضرت ﷺ کی یہ بات سچی ثابت ہوئی۔حضرت عمرؓ کے کئی الہام احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو ایرانیوں کے خلاف جنگ کے دوران لکھا کہ : ” مجھے القاء ہوا کہ تمہارے مقابلے میں دشمن کو شکست ہوگی۔( الوثائق العباسیه فرمان بنام سعد بن ابی وقاص ۳۰۳)