جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 98
98 حضرت امام جعفر صادق" کا ہی دوسرا قول ہے کہ :۔مومن امام مہدی کے زمانہ میں مشرق میں ہوگا اور اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مغرب میں ہے اور جو مغرب میں ہوگا وہ اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مشرق میں ہے۔“ انوار نعمانیہ کے مصنف لکھتے ہیں:۔( نجم الثاقب جلد اص (۱۰۱) امام مہدی کے زمانہ میں اس کے ماننے والوں کی قوت سامعہ اور باصرہ اتنی تیز کر دی جائے گی کہ اگر متبعین ایک ملک میں ہوں گے اور امام دوسرے ملک میں تو وہ امام کو دیکھ لیں گے اس کا کلام سن سکیں گے اور اس سے آزادی سے بات چیت کر سکیں گے۔“ ( تحذير المسلمين ص ۷۰ ) یہ تمام پیشگوئیاں امام مہدی کے زمانہ میں مواصلاتی سیاروں کے ذریعہ دور و دراز ملکوں میں عالمگیر رابطوں کی خبر دے رہی ہیں۔اور بڑے واضح طور پر سیٹلائٹ اور ڈش انٹینا کے ذریعہ نشر ہونے والے پروگراموں کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ یہ تمام پیشگوئیاں روز روشن کی طرح ہمارے زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں۔۱۹۹۲ء کے آغاز سے حضرت مرز اغلام احمد صاحب قادیانی بانی جماعت احمد یہ اور مدعی مہدویت کے چوتھے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے خطبات و تقاریر لندن سے مواصلاتی سیاروں کے ذریعہ تمام دنیا میں براہ راست نشر ہورہے ہیں۔اور آج خدا کے فضل سے ساری دنیا میں براہ راست نشر ہورہے ہیں۔اور آج خدا کے فضل سے ساری دنیا میں رہنے والے احمدی ٹی۔وی پر انہیں دیکھتے اور سنتے ہیں۔آج تمام اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں یہ امتیازی علامات سوائے جماعت احمدیہ کے اور کسی کو میسر نہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ کے خطبات اور دیگر تقاریر اسلام اور قرآن کی سچی تصویر ہیں۔اور تمام دنیا میں ان کے ذریعہ دین حق کی تبلیغ کی جارہی ہے۔ہر خطبہ جمعہ سے پہلے نشر ہونے والی اذان آسمان سے اترتی ہے اور ہوا کی لہروں پر سوار ہو کر دنیا کے کونے کونے میں پھیلتی ہے اور تمام عالم میں اللہ کی توحید اور رسول کریم ہ کی رسالت کی منادی کرتی ہے۔ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار