جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 91
91 ہونے کے اس وقت تک زندہ ہوتے یا صحابہ کرام انہیں زندہ سمجھتے تو ان کے سامنے یہ آیت قابل استدلال ہی نہ ہوتی اور وہ صحابہ جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے صدمہ سے دل برداشتہ تھے۔وہ ضرور بول اٹھتے کہ جب عیسی علیہ السلام رسول ہو کر اب تک زندہ ہیں۔تو آنحضرت ﷺ کا وفات پانا کیونکر ضروری ٹھہر اگر کسی صحابی کا اعتراض مروی نہیں۔پس ثابت ہوا کہ اس وقت تمام صحابہ کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام وفات پانے والوں میں سے ہیں۔مسئلہ ظہور امام مهدی و نزول مسیح موعود مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ آخری زمانہ میں امت محمدیہ کی ہدایت و راہنمائی کیلئے حضرت امام مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے اور نیز یہ کہ اسی دوران حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے وہ زمین پر چالیس سال تک حکومت کریں گے۔اس کے بعد قیامت آئے گی۔اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کا یہ موقف ہے کہ جس مہدی کے ظہور کی پیشگوئی کی گئی تھی وہ ظاہر ہو چکے ہیں۔اور وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔اسی طرح جماعت احمد یہ یہ بھی عقیدہ رکھتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے مراد امت محمدیہ میں سے ایک شخص کا ظہور ہے جو اپنی صفات اور حالات کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہوگا۔اور یہ مراد نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام خود بنفس نفیس بعد وفات دوبارہ آئیں گے۔کیونکہ نھیں صریح سے ان کی وفات ثابت ہے۔اور فوت شدہ شخص کا قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں واپس آنا قر آنی تعلیم کے منافی ہے۔چنانچہ امت کے کئی بزرگوں نے نزول مسیح کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید کی ہے۔قَالَتْ فِرْقَةٌ الْمُرَادُ مِنْ نُزُولِ عِيسَى خُرُوجُ رَجُلٍ يَشْبَهُ عِيسَى فِي الْفَضْلِ وَالشَّرْفِ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْخَيْرِ مَلَكٌ وَ لِلشَّرِيرِ شَيْطَانٌ تَشْبِيْهَا بِهِمَا وَلَا يُرَادُ الاعْيَانُ ( خریدة العجائب ص ۲۶۳ طبع دوم از سراج الدین ابن ابی حفص عمر بن الوردی ) ترجمہ:۔ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسٹی کے نزول سے مراد ایسے شخص کا ظہور ہے جو کہ فضل و شرف میں عیسی سے مشابہ ہوگا۔جیسا کہ ایک نیک شخص کو فرشتہ کہ دیا جاتا ہے اور ایک برے شخص کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے۔اس سے مراد تشبیہ ہوتی ہے۔حقیقی فرشتہ اور شیطان مراد نہیں ہوتے۔تفسیر عرائس البیان میں بھی نزول مسیح ابن مریم سے مراد کوئی دوسرا وجو دلیا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے:۔وَجَبَ نُزُولُهُ فِي آخِرِ الزَّمَان بِتَعَلُّقِهِ بِبَدَنِ آخَرَ۔(تفسیر عرائس البیان جلد ۱ ص ۲۶۲ مطبع نول کشور)