جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 75
75 قادیان کا تعارف قادیان دارالامان جو کہ جماعت احمد یہ عالمگیر کا مرکز مدام ہے ہندوستان کے ایک ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔یہ لا ہور سے ۷۰ میل (یعنی ۷ ۱۲۰ کلومیٹر ) گوشہ شمال و مشرق میں واقع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جدا مسجد میں سے ایک بزرگ جو علم و فضل اور تفقہ فی الدین میں کمال رکھنے کے علاوہ تقویٰ طہارت کو بھی اپنا شعار رکھتے تھے سمر قند سے ہجرت کر کے یہاں آئے۔ان کے ساتھ دوسو آدمی ان کے توابع خدام اور اہل وعیال میں سے تھے۔حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب کو اسلام سے بہت محبت تھی۔یہی بات یہاں آ کر اپنے آباد کردہ قصبہ میں بھی ملحوظ رکھی اور اس قصبہ کا نام اسلام پور رکھا۔چونکہ یہ علاقہ جس میں مرزا ہادی بیگ نے اپنے رہنے کے لئے یہ گاؤں آباد کیا ماجھا کہلاتا تھا اس لئے یہ نام آہستہ آہستہ اسلام پور ماجھا میں بدل گیا۔اور ماجھا اسے شاید اس لئے کہا جاتا تھا کہ ماجھ ہندی زبان میں بھینس کو کہتے ہیں اور اس علاقہ میں بھینسیں کثرت سے پائی جاتی تھیں۔اسلام پور آہستہ آہستہ ارد گرد کے سارے علاقے کا صدر مقام بن گیا اور یہیں صدر عدالت یعنی دار القضاء تھا اس لئے لوگوں نے اس کا نام اسلام پور قاضی ماجھی مشہور کر دیا۔چونکہ زبان محاورہ اور اختصار پسند ہوتی ہے اس لئے رفتہ رفتہ لوگ اسلام پور کو چھوڑ کر کچھ عرصہ تک اس کو قاضی ما جبھی کہتے رہے۔پھر امتدادزمانہ نے قاضی ماجھی کے بجائے صرف قاضی نام باقی رہنے دیا۔اور چونکہ ض کے تلفظ میں اہل ہند و پنجاب دال سے کام چلاتے ہیں اس لئے قاضی کی بجائے قادی ہو گیا۔پھر اس سے بگڑ کر قادیان بنا اور آجکل اسی جگہ کو قادیان کہتے ہیں۔یه قصبه ۳۳ طولانی خط استواء میں واقع ہے۔مرزا ہادی بیگ صاحب کی ہندستان آمد کے متعلق کوئی صحیح تاریخ نہیں ملتی۔لیکن یہ امر ثابت ہے کہ بابر بادشاہ کے عہد حکومت میں اس خاندان کے بزرگ ہندوستان پہنچے اور سرلیپل گریفن کی تحقیقات کے مطاق یہ ۱۵۳۰ء کا واقعہ ہے۔بلا شبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور سے پہلے بہت کم لوگ اس کو دنیا میں جاننے والے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توسط سے یہ قصبہ ساری دنیا کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام "يَاتِيكَ مِنْ كُلّ فَجَ عَمِيقٍ “ اپنی پوری شان و شوکت سے پورا ہو رہا ہے۔66