جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 74 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 74

74 حُذَيْفَةَ ابْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَ كُنتُ أَسأَلَهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرِّفَجَاءَ نَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرِّ قَالَ نَعَمُ قُلْتُ وَ هَلْ بَعْدَ ذلِكَ الشَّرِ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمُ وَ فِيْهِ دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ قَوْمٌ يَهِدُونَ بِغَيرِ هُدى تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذلِكَ الْخَيْر مِنْ شَرِّ قَالَ نَعَمُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيْهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفَهُمْ قَالَ هُمُ مِنْ جَلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِالْسِنَتِنَا قُلَتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمُ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ قَالَ فَاعْتَزِلُ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنَّ تَعُضُّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَ الْمَوْتُ وَ اَنْتَ عَلى ذلِكَ (صحیح بخاری کتاب الفتن۔باب كيف الامرا ذالم تكن جماعة) ترجمہ : حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ سے بھلی باتوں کے بارہ میں پوچھا کرتے اور میں برائی (فتنے اور فساد ) کے بارے میں پوچھا کرتا اس ڈر سے کہ کہیں اس میں گرفتار نہ ہو جاؤں۔ایک دن میں نے کہا یا رسول اللہ ہم لوگ جاہلیت اور خرابی میں گرفتار تھے پھر اللہ تعالیٰ یہ بھلائی ہم پر لے آیا (اسلام کی توفیق دی ) اب اس بھلائی کے بعد کیا پھر برائی پیدا ہوگی۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔میں نے پوچھا پھر اس برائی کے بعد پھر بھلائی ہو گی۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔مگر اس میں دھواں ہوگا۔میں نے عرض کیا دھواں کیا بات؟ آپ نے فرمایا ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ( پورا پورا ) میری سنت پر نہیں چلیں گے ان کی کوئی بات اچھی ہوگی اور کوئی بری تو انہیں پہچان لینا اور ان سے بیزاری کا اظہار کرنا۔میں نے پوچھا پھر اس بھلائی کے بعد برائی ہوگی۔آپ نے فرمایا۔ہاں اس وقت دوزخ کی طرف بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے جو کوئی ان کی بات مانے گا بس وہ اس دوزخ میں جھونک دیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان لوگوں کی صفت کو بیان کریں ( تا کہ ہم انہیں پہچان لیں ) آپ نے فرمایا یہ لوگ بظاہر تو ہماری جماعت یعنی مسلمانوں میں سے ہوں گے ہماری ہی زبان بولیں گے۔میں نے کہا یا رسول اللہ اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو کیا کروں۔آپ نے فرمایا۔ایسا کر کہ مسلمانوں کی جماعت اور امام کے ساتھ رہ۔میں نے کہا اگر اس وقت جماعت نہ ہو امام نہ ہو۔فرمایا تو پھر ایسا کر کہ ان تمام فرقوں سے الگ رہ ( جنگل میں دور دراز چلا جا ) اگر وہاں کچھ کھانے کو نہ ملے تو خواہ کسی درخت کی جڑ مرنے تک چباتارہ ( تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوگا )