جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 73
73 پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔“ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ ص۲۱۰) جماعت احمدیہ میں شمولیت کی ضرورت حضرت بانی سلسلہ کا مشن اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہے۔اس عظیم الشان مقصد کیلئے آنے والے موعود کی تائید و نصرت ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ:۔فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الْتَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِى۔(ابن ماجہ ابواب الفتن۔باب خروج المهدی) یعنی اے مسلمانو! جب تمہیں اس کا علم ہو جائے تو فوراً اس کی بیعت کرو خواہ تمہیں برف پر سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہوگا۔وَعَلَى رَأْسِهِ مَلَكٌ يُنَادِى هَذَا الْمَهْدِيُّ خَلِيْفَةُ اللَّهِ فَاتَّبَعُوهُ۔ينابيع المودة جز ثالث ص ۰۸ از شیخ سلیمان ابن الشیخ ابراهیم ) مہدی کی حمایت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے کھڑے ہوں گے جو لوگوں کے دلوں میں الہام کر کے انہیں مہدی کے متبعین میں شامل ہونے کی تحریک کریں گے۔عَنْ سَبِيعِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرِّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ : نَعَمُ ، قُلْتُ : فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْفُ أَحْسِبُ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَ مَاذَا ، قَالَ : ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ۔قَالَ : إِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمُهُ وَاِنْ نُهِكَ جِسْمُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ۔( مسند احمد بن حنبل ص۴۰۳) حضرت سبیع حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کیا ان بھلے دنوں کے بعد برے دن بھی آئیں گے جس طرح پہلے برے دن تھے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا اس فتنہ سے بچنے کی کیا صورت اختیار کی جائے گی۔آپ نے فرمایا تلوار ! یعنی جنگ کا حربہ استعمال کیا جائے گا۔میں نے عرض کیا نتیجہ کیا نکلے گا؟ فرمایا۔دلی کدورت کے باوجود صلح کی سطحی کوششیں کی جائیں گی۔میں نے عرض کیا۔پھر کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ کھڑے ہوں گے ایسے حالات میں اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ دیکھو تو تم اس کی متابعت و مصاحبت اختیار کر واگر چہ اس وجہ سے تمہارا جسم لہولہان کر دیا جائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے۔