جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 72
72 اور اس کے بدنی عیوب لوگوں کو سناتا ہے وہ بھی متکبر ہے اور وہ اس خدا سے بے خبر ہے کہ ایک دم میں اس پر ایسے بدنی عیوب نازل کرے کہ اس بھائی سے اس کو بدتر کر دے یہ نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ ص۴۰۲) بدظنی ایک سخت بلا ہے جو ایمان کو ایسی جلدی جلا دیتی ہے جیسا کہ آتش سوزاں خس و خاشاک کو اور وہ جو خدا کے مرسلوں پر بدظنی کرتا ہے خدا اس کا خود دشمن ہو جاتا ہے اور اس کی جنگ کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے برگزیدوں کے لئے اس قدرغیرت رکھتا ہے جو کسی میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔میرے پر جب طرح طرح کے حملے ہوئے تو وہی خدا کی غیرت میرے لئے برافروختہ ہوئی۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۱۷ حاشیہ) ”میں سچ کہتا ہوں کہ بدظنی بہت سی بری بلا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے اور دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔صدیقوں کے کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے اور اگر کسی کی نسبت کوئی سو ظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجہ سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ بہت ہی خطر ناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔(ملفوظات جلد اول ص۳۷۲) اور چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقوی حاصل نہیں ہو سکتا اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو وہ درد جس سے خدا راضی ہو اس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الہی ہو۔اس محبت کو چھوڑ دو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔اگر تم صاف دل ہو کر اس کی طرف آجاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مددکرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۷) لباس التقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق در دقیق