جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 29
29 میں حضرت بانی سلسلہ کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتویٰ لگانے والے بنے انہوں نے اپنے رسالے اشاعتہ السنہ میں براہین احمدیہ کار یو یو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:۔”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔“ اشاعۃ السنہ جلد نمبر ۷ ص ۶ بابت سال ۱۸۸۴ء) ابھی براہین احمدیہ کی تصنیف جس کے چار حصے ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئے مکمل نہیں ہوئی تھی کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مارچ ۱۸۸۲ء میں وہ تاریخی الہام ہوا جو آپ کی ماموریت کی بنیاد تھا۔اس الہام میں خدا تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا :۔يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ۔مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الرَّحْمَانُ عَلَّمَ الْقُرآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ (بَانُهُمْ۔وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔( براہین احمدیہ حصہ سوم ) یعنی۔اے احمد! اللہ نے تجھے برکت دی ہے۔پس جو دارتو نے دین کی خدمت میں چلایا بلکہ دراصل خدا نے چلایا ہے۔خدا نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تا کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کرے جن کے باپ دادے ہوشیار نہیں کئے گئے اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہو جاوے۔لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔آپ نے اپنی زندگی میں آریوں اور عیسائیوں پادریوں کے دین حق پر حملوں کے دفاع اور قرآن کریم کی روح پرور تعلیم کی اشاعت کی خاطر ۸۰ سے زائد کتب تصنیف فرما ئیں اور باوجود محدود وسائل کے دنیا میں دین حق کی اشاعت فرمائی۔اخبار ” صادق الاخبار ڈیواری (بہاول پور ) نے حضرت مسیح موعود کی وفات پر لکھا:۔”مرزا صاحب نے اپنی زور تقاریر اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے لچر اعتراضات کے داندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا ہے۔اور ثابت کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کماحقہ ادا کر کے خدمت اسلام میں کوئی ( بحوالہ تشحید الاذہان جلد نمبر صفحه ۳۸۲ - ۱۹۰۸ء) دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔“ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نے لکھا:۔