جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 584 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 584

584 ۲۰ جون ۱۹۵۰ء کو لیبیا کے تین رکنی وفد نے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات جلیلہ کے لئے پاکستان کا ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا :۔پاکستان کے وزیر خارجہ نے لیبیا کے جذبات اور امنگوں کو اقوام متحدہ میں بے مثال طور پر پیش کیا ہے۔یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج لیبیا آزادی کے دروازے پر کھڑا ہے (لیبیا یکم جنوری ۱۹۵۲ء کو آزاد ہو گیا۔لیبیا پاکستان اور اس کے لائق صد احترام وزیر خارجہ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا اور اس کے لئے ہمیشہ پاکستان کا ممنون احسان رہے گا۔“ (بحوالہ لاہور، ۶ ستمبر ۱۹۷۶ ء ص ۴) عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام پاشا نے ایک بیان میں فرمایا :۔ظفر اللہ خان اپنے قول اور اپنے کردار کی رو سے مسلمان ہیں۔روئے زمین کے تمام حصوں میں اسلام کی مدافعت کرنے میں آپ کامیاب رہے اور اسلام کی مدافعت میں جو موقف بھی اختیار کیا گیا اس کی کامیاب حمایت ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا۔اسی لئے آپ کی عزت عوام کے دلوں میں گھر کر گئی اور مسلمانان عالم کے قلوب آپ کے لئے احسان مندی کے جذبات سے لبریز ہو گئے۔(بحوالہ اصحاب احمد جلدا اص۲۱۳) دمشق کے مشہور جریدہ الایام“ نے ۲۴ فروری ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں لکھا:۔ظفر اللہ خان وہ شخصیت ہیں جنہوں نے عرب ممالک کی ترجمانی کرنے میں اپنا انتہائی زور صرف کر دیا۔آپ کا کام عربوں کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیش کے لئے آب زر سے لکھا جاتارہے گا۔“ سابق وزیر اعظم پاکستان چودھری محمد علی صاحب نے کتاب ظہور پاکستان، ص ۴۴۵ میں تحریر فرمایا۔عالم اسلام کی آزادی، استحکام، خوشحالی اور اتحاد کے لئے کوشاں رہنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل مقصد ہے۔حکومت پاکستان کا ایک اولین اقدام یہ تھا کہ مشرق وسطی کے ملکوں میں ایک خیر سگالی وفد بھیجا گیا۔پاکستان نے فلسطین میں عربوں کے حقوق کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان اس کے فصیح ترین ترجمان تھے۔علاوہ ازیں انڈونیشیا، ملایا، سوڈان، لیبیا، تیونس، مراکش، نائیجیریا اور الجزائر کی آزادی کی مکمل حمایت کی گئی۔( بحوالہ جماعت احمدیہ کی قومی اور ملی خدمات ص ۶ ۹ تا ۱۰۳) آپ نے ۱۹۸۵ء میں وفات پائی اور آپ کی بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں تدفین ہوئی۔۲۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے آپ ۱۹ جون ۱۸۹۴ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔آپ کے والد حضرت مولوی قادر بخش صاحب سلسلہ کے نہایت مخلص اور قدیم بزرگوں میں سے تھے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ۳۱۳