جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 534
534 چاہئے۔اس ارادہ سے ۱۸۸۶ء میں قادیان پہنچے لیکن حضرت اقدس ہوشیار پور میں مقیم تھے۔آپ بھی ہوشیار پور گئے اور خادم کے ذریعہ اطلاع بھجوائی۔جب خادم اندر گیا تو الہام ہوا کہ جہاں آپ نے پہنچنا تھا پہنچ گئے ہیں اب یہاں سے مت ہیں۔خادم نے واپس آ کر معذرت کی اس وقت فرصت نہیں۔اس لئے پھر کسی وقت تشریف لائیں۔حضرت مولوی صاحب کے جواب سے مطلع کیا۔اس وقت حضور کو الہام ہوا کہ مہمان آئے تو اس کی مہمان نوازی کرنی چاہئے۔جس پر حضور نے خادم کو جلدی سے دروازہ کھول کر مہمان کو اندر لے کر آنے کا حکم دیا۔جب حضرت مولوی صاحب اندر ملاقات کے لئے گئے تو حضور بڑی خندہ پیشانی سے ملے اور فرمایا ابھی الہام ہوا ہے حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ یہاں سے مت ہیں۔جہاں پہنچنا تھا آپ پہنچ گئے۔حضرت مولوی صاحب تمام دینی علوم تفسیر حدیث فقہ نحو وغیرہ کے معتبر عالم تھے۔طب یونانی میں خاص ملکہ تھا۔اردو، فارسی ، عربی ، پشتو کے ماہر اور تقریر وتحریر میں یکتائے روزگار تھے۔حضرت اقدس کی بیعت کا شرف پانا: حضرت مولوی صاحب چند روز ہوشیار پور رہے۔آپ کا تعارف مرزا اعظم بیگ ہوشیار پوری سے ہوا جو ان دنوں وہاں مہتمم بندوبست تھے۔مولوی صاحب وہاں حضرت اقدس کے معمولات کا مشاہدہ کرتے رہے۔حضرت اقدس سے بیعت کی درخواست کی لیکن حضور نے انکار فرما دیا کہ ابھی بیعت لینے کا حکم نہیں ملا اور بعد ازاں آپ نے ۲۰ جولائی ۱۸۹۲ء کو بیعت کی اور رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۴۸ نمبر پر درج ہے۔(رجسٹر بیعت مطبوعه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۲) دینی خدمات: بیعت کر لینے کے بعد حضرت مولوی صاحب کثرت سے قادیان جاتے اور روحانی چشمہ سے سیراب ہو کر واپس لوٹتے۔قادیان میں زائرین کو دعوت الی اللہ کرتے اور کتب کی طباعت کے کام میں مدد دیتے اور پروف کی تصیح کرتے۔ایک مرتبہ حضرت اقدس نے مولوی صاحب کو خطبہ کے لئے ارشاد فرمایا۔آپ نے پنجابی زبان میں خطبہ دیا جسے لوگوں نے پسند کیا اور بہت سے لوگوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔حضرت اقدس سے عاشقانہ تعلق فدائیت: حضرت اقدس کے عشق میں گداز تھے۔حضرت اقدس سیر کر کے جب واپس آتے تو آپ آگے بڑھ کر حضور کی نعلین مبارک اپنے کندھے والی چادر ( پر ناں ) سے صاف کرتے۔مستری نظام الدین صاحب سیالکوٹی سنایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کا اخلاص جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔جب حضرت اقدس سیالکوٹ گئے اور سڑک پر آ رہے تھے کسی عورت نے کھڑکی سے حضور پر راکھ ڈالی۔حضور آگے نکل چکے تھے۔اس لئے راکھ مولوی صاحب کے سر پر پڑی۔اس سے مولوی