جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 449
449 قصر احمدیت کی ان چاروں دیواروں کو مکمل کرنے کے بعد فرمایا :۔”ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکانا ہے۔تمام دنیا کو دین اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا بوڑھے ہوں اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے۔اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن رات عمل نہیں کرتے جوان کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔جب ہم تمام افراد کو ایک نظام میں منسلک کر لیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف کامل طور پر توجہ کر سکیں گے۔اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں۔“ (الفضل اارا کتوبر ۱۹۴۴ء) 66 ایک اور موقع پر فرمایا:۔سلسلہ کے روحانی بقاء کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی تحریکات جاری کی ہوئی ہیں اور یہ تینوں ضروری ہیں ان کو معمولی نہ سمجھیں۔حالات ایسے ہیں کہ جب تک دودو تین تین آدمیوں کی علیحدہ علیحدہ نگرانی کا انتظام نہ کیا جائے کام نہیں ہو سکتا ہمیں اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں کہ دوسرے ان کا اقرار کرنے پر مجبور ہوں۔اور پھر تعداد بھی بڑھانی چاہئے۔اگر گلاب کا ایک ہی پھول ہو اور وہ دوسرا پیدا نہ کر سکے تو اس کی خوبصورتی سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔فتح تو آئندہ زمانہ میں ہوتی ہے۔اور معلوم نہیں کب ہو۔لیکن ہمیں کم از کم اتنا تو اطمینان ہونا چاہئے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے کہ دنیا احمدیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔احمدیت کو دنیا میں پھیلا دینا ہمارے اختیار کی بات نہیں لیکن ہم اپنی زندگیوں کا نقشہ ایسا خوبصورت بنا سکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بظاہر اس کا اقرار کریں یا نہ کریں۔مگران کے دل احمدیت کی خوبی کے معترف ہو جائیں۔اور اس کے لئے جماعت کے سب طبقات کی تنظیم نہایت ضروری ہے۔“ تنظیمی اعتبار سے جماعت احمدیہ نے دنیا پر جو اثرات مرتب کئے ان کا ذکر اپنے الفاظ میں کرنے کی بجائے غیروں کی چند آرا نقل کر رہا ہوں:۔جناب مولانامحمد علی جو ہر صاحب نے ایک موقعہ پر فرمایا:۔ناشکر گزاری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور اس کی منتظم جماعت کا ذکر ان سطور