جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 448
448۔چندہ سالانہ اجتماع بھی ہر ناصر پر ۲ را فی صد کی شرح سے ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔۴۔چندہ اشاعت بھی ہر ناصر کو ادا کرنا ضروری ہے جس کی شرح آجکل علی الاقل پانچ روپے مقرر ہے۔اطفال الاحمدیہ کا قیام اطفال الاحمدیہ نئی تنظیم کے قائم کرنے کا ارشاد حضور نے اولاً ۱۵ را پریل ۱۹۳۸ء کو بیت الاقصیٰ قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران بایں الفاظ فرمایا:۔’اصل چیز یہ ہے کہ اچھی عادت بھی ہواور علم بھی ہو مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب عادت کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور علم کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے۔عادت کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کی ایک شاخ ایسی بھی کھولی جائے جس میں پانچ چھ سال کے بچوں سے لے کر ۱۵۔۶ سال کی عمر تک کے بچے شامل ہو سکیں۔یا اگر کوئی اور حد بندی تجویز ہو تو اس کے ماتحت بچوں کو شامل کیا جائے۔بہر حال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہئے۔اور ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہئیں۔مگر یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ان بچوں کے نگران نوجوان نہ ہوں بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں۔نماز کے بغیر دین کوئی چیز نہیں اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں (دینی) روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے اسی طرح سچ کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔جس قوم میں سچ نہیں اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں۔اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن کوئی چیز نہیں۔جس قوم میں محنت کی عادت نہیں، اس قوم میں سیاست اور تمدن بھی نہیں۔گویا یہ تین معیار ہیں، جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی۔۔ہر مقام کے احمدی نوجوان جہاں خود خدام الاحمدیہ میں شامل ہوں وہاں سات سے پندرہ سال تک عمر کے بچوں کے لئے مجلس اطفال الاحمدیہ قائم کریں۔“ اس طرح حضرت مصلح موعود نے ان نھی منی احمدی کلیوں کو جنہوں نے آگے چل کر باغ احمد کے خوش رنگ اور خوبرو پھول بننا تھا۔اور دنیا کو اپنے روحانی رنگ و بُو سے معطر کرنا تھا ایک مالا میں پرو دیا۔اور اس طرح ابتداء سے ہی ان کی اخلاقی ، روحانی، جسمانی، ذہنی اور علمی تربیت کا سلسلہ جاری فرما دیا۔گویا تنظیم خدام الاحمدیہ کا ہی ایک حصہ ہے مگر اپنے پروگراموں میں بالکل آزاد ہے۔تو یہ ایک چھوٹی سی دنیا مگر اپنے نظام اور لائحہ عمل کے لحاظ سے بالکل مکمل ہے۔جماعت کی اس تنظیم کی بدولت ہی آج دنیا میں یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ کبھی کوئی احمدی بچہ دلائل کے میدان میں مغلوب نہیں ہوسکتا۔