جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 402 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 402

402 حضرت خلیفتہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۸۵ء کو خطبہ جمعہ ارشادفرماتے ہوئے وقف جدید کے مقاصد اور ان کے پورا ہونے کے سلسلہ میں سندھ کے ہندوؤں میں دعوت الی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔شروع میں چند سال ہمیں کوشش کے باوجود پھل نہیں ملا ان علاقوں میں کئی مسائل تھے جن سے نبٹنا ہمارے بس کی بات نہیں تھی۔اجنبیت بھی تھی اور ( لوگوں ) کی طرف سے ان سے اچھا سلوک نہ ہونے کی وجہ سے بھی دین حق سے دوری پائی جاتی تھی لیکن رفتہ رفتہ جمود ٹوٹا۔نفرت دور ہوئی اور محبت و پیار کے سلوک کے نتیجہ میں توجہ پیدا ہوئی اور ان میں تیزی سے دین حق پھیلنا شروع ہو گیا۔۔۔ان کے خصوصی حالات کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنا شکار سمجھتے تھے چنانچہ انہوں نے وقف جدید کے کام شروع کرنے سے قبل وہاں عیسائیت کا جال پھیلا دیا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے معلمین وقف جدید کی کوششوں سے حیرت انگیز فضل فرمایا اور عیسائیوں کے کلیہ وہاں سے پاؤں اکھڑ گئے۔متعدد دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دین حق قائم ہو گیا۔‘ ضمیمہ انصار اللہ جنوری ۱۹۸۶ء) حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں وقف جدید کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔”ہندوستان میں وقف جدید قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہی ہے۔حیدر آباد کے اردگرد اور پنجاب میں قادیان کے مضافات میں جو بیسیوں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں وہاں زیادہ تر خدمت کی توفیق وقف جدید کو مل رہی ہے لیکن ایک علاقہ تشنہ ہے اور وہ ہے شدھی کا پرانا کارزار۔۔۔۔ان علاقوں میں دوبارہ مذہبی طور پر شدھی کی تحریک چلا دی گئی ہے اس لئے ہندوستان کی وقف جدید کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باقی علاقوں کے علاوہ پرانے شدھی کے علاقوں کی طرف بھی توجہ کریں۔ہندوستان میں واقفین کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔اور مالی لحاظ سے بھی کمزوری ہے۔مالی لحاظ سے تو میں نے پیغام بھیجا ہے کہ آپ دعوت الی اللہ کا پروگرام بنا ئیں۔اللہ تعالیٰ سلسلے کی ضرورت کو پورا فرمائے گا۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۸۵ء از ضمیمہ انصار اللہ جنوری ۱۹۸۵ء) چنانچہ حضور انور نے ہندوستان میں دعوت الی اللہ کے اسی منصوبہ کے پیش نظر اپنے اس خطبہ جمعہ میں وقف جدید کو عالمگیر حیثیت عطا فرما دی۔تا کہ بیرون ممالک سے حاصل ہونے والے چندہ وقف جدید سے ہندوستان میں دعوت الی اللہ کے منصوبہ کو عملی جامع پہنایا جا سکے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہندستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران کروڑوں کی تعداد میں حاصل ہونے والے پھلوں میں تحریک وقف جدید کا بھی اہم کردار ہے۔