جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 400
400 جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو۔یا دوکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اس علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے۔گو یہ سکیم بہت وسیع ہے۔مگر میں نے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں۔مگر بہر حال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی۔اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔۔(روز نامه الفضل ۱۶ / فروری ۱۹۵۸) حضور انور کی اس مبارک تحریک کے نتیجہ میں خدمت دین کا شوق اور جذ بہ رکھنے والے کئی نوجوانوں نے زندگیاں وقف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔چنانچہ حضور انور نے ابتداء میں صرف معلمین کے ذریعہ تعلیم و تربیت کا کام شروع کرنے کی ہدایت فرمائی۔جس کی تعمیل میں معلمین کے لئے ایک تربیتی کلاس کا کی انعقاد کیا گیا اور بہت جلد ان درویشوں کا ایک گروہ عملی جدو جہد کے واسطے تیار ہو گیا۔اور یکم فروری ۱۹۵۸ء کو دعاؤں کے ساتھ 4 معلمین کا پہلا قافلہ سوئے منزل روانہ ہوائے۔جو حسب ذیل ہیں۔(۱) مکرم احسان الہی صاحب (۲) مکرم محمد یوسف صاحب (۳) مکرم رشید احمد طارق صاحب لاکھا روڈ (۴) مکرم منیر احمد محمود صاحب (برائے لیہ ) (۵) مکرم مبارک احمد صاحب (۶) مکرم رشید احمد طیب صاحب برائے بہاولپور (بحوالہ ریکارڈ دفتر وقف جدید ) اور آج خدا کے فضل سے سینکڑوں کی تعداد میں معلمین پاکستان کے طول وعرض میں تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کا کام سرانجام دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں۔جس کے نتیجہ میں جماعتوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے تعلیم و تربیت اور اصلاح وارشاد کے سلسلہ میں معلمین سے استفادہ کیا۔اور ہزاروں کی تعداد میں احمدی بچے اور بچیاں تعلیم القرآن اور دیگر بنیادی دینی معلومات کے زیور سے مرصع ہو کر پروان چڑھ چکے ہیں۔معلمین وقف جدید نے خاص طور پر تھر اور نگر پار کر جیسے دور دراز اور انتہائی پسماندہ علاقہ میں سسکتی ہوئی انسانیت کی قابل قدر خدمات بجالانے کی سعادت حاصل کی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صرف پاکستان میں ۳۴۵ معلمین وقف جدید خدمت سلسلہ سر انجام دے رہے ہیں اسی طرح ہندوستان میں بھی سینکڑوں معلمین تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔تحریک وقف جدید کی اہمیت کا انداز اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس تحریک کے بانی حضرت مصلح موعود نے ہزار معلمین کی ضرورت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:۔