جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 152
152 میں ذی علم اور تجربہ کار سمجھے جاتے تھے۔وہ خود کو صدرانجمن کے مالک سمجھتے تھے اور حضور کو کل کا بچہ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔مگر دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ بالآخر یہی کل کا بچہ کامیاب رہا۔انتخاب خلافت ثانیه جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے۔حضرت خلیفہ اول مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد دو پہر فوت ہوئے تھے۔وہ جماعت پر ایک بہت ہی نازک وقت تھا۔ایک طرف حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا غم تھا اور دوسری طرف منکرین خلافت کے فتنہ کا خوف تھا جو ہر خلص احمدی کو بیتاب کر رہا تھا۔اور وہ بیقراری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھا۔نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک بہت درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی جس میں آپ نے فرمایا کہ دوستوں کو بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی مدد فرمائے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔دوسرے دن خلافت کا انکار کرنے والوں کو سمجھانے کی ایک آخری کوشش کی گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے انہیں یہاں تک کہا کہ اگر خلافت سے انکار نہ کریں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کثرت رائے سے آپ لوگوں میں سے کوئی خلیفہ منتخب ہو جائے تو ہم سچے دل سے اسے قبول کریں گے لیکن یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ایک رسالہ چھاپ کر تیار کر رکھا تھا جسے حضور کی وفات ہوتے ہی کثرت سے جماعت میں تقسیم کر دیا گیا۔اس پرو پیگنڈا کی وجہ سے انہیں امید تھی کہ جماعت ان کی باتوں کو ضرور مان لے گی۔اس لئے وہ اپنی باتوں پر اڑے رہے۔آخرم امارچ کو نماز عصر کے بعد سب احمدی جو دو ہزار کی تعداد میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے تھے مسجد نور قادیان میں جمع ہوئے۔سب سے پہلے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی وصیت پڑھ کر سنائی۔جس میں آپ نے اپنا جانشین مقرر کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔وصیت پڑھنے کے ساتھ ہی ہر طرف سے لوگوں کی آوازیں حضرت میاں صاحب، حضرت میاں صاحب ( مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) بلند ہونے لگیں۔حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔آپ نے خلافت کی ضرورت واضح کرنے کے بعد فرمایا کہ میری رائے میں حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب ہر طرح سے خلیفہ اسیح بنے کے اہل ہیں۔اس لئے ہمیں ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے۔اس کی ہر طرف تائید کی گئی اور لوگوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ ہماری بیعت لی جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے جو منکرین خلافت کے لیڈر تھے، کچھ کہنا چاہالیکن لوگوں نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ جب آپ خلافت ہی کے منکر ہیں تو