جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 63
63 جماعت احمدیہ کے قیام کی ضرورت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کے مقاصد عالیہ کے حصول کا پروگرام عالمگیر ہونے کے علاوہ زمانہ کے لحاظ سے قیامت تک پھیلا ہوا تھا۔لہذا ایک ایسی جماعت کی ضرورت تھی جو نسلاً بعد نسل اپنی جان، مال اور وقت کی مسلسل قربانیاں دے کر غلبہ دین حق کی مہم کو آگے بڑھانے کی جدو جہد قیامت تک جاری رکھتی۔ایسا ہی پیشگوئی میں بھی مقدر تھا۔قَالَ رَسُولُ اللهِ عِصَابَةٌ تَغُرُرُ الْهُدَ وَهِيَ تَكُونُ مَعَ الْمَهْدِي اِسْمُهُ أَحْمَدُ۔رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخه۔النجم الثاقب حصه دوم ص ۱۳۴ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ایک جماعت ہندوستان میں لڑے گی۔اور وہ مہدی کے ساتھ ہوگی جس کا نام احمد ہو گا۔یہ روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَزْءِ الزُّبَيْدِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَخْرُجُ نَاسٌ مِّنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِئُونَ لِلْمَهْدِي يَعْنِي سُلْطَائِهِ۔(ابن ماجه باب خروج المهدی) حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی نے فرمایا: مشرق سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو مہدی علیہ السلام کی راہ ہموار کریں گے یعنی اس کی ترقی اور اس کے غلبہ کیلئے کوشش کریں گے۔قَالَ النَّبِيُّ يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ مِنْ قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَ كَدْعَهِ وَيُصَدِّقُهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ وَيَجْمَعُ أَصْحَابَهُ مِنْ أَقْصَى الْبَلَادِ عَلَى عِدَّةِ اَهْلِ بَدْرٍ ثَلَاثِ مِائَةِ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلاً وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ مَحْتُومَةٌ فِيْهَا عَدَدُ اَصْحَابِهِ بِأَسْمَائِهِمْ وَبَلَادِهِمْ وَ خِلالِهِمْ۔(جواهر الاسرار - قلمی مصنفہ حضرت شیخ علی بن حمزہ بن علی الملک الطوسی) ارشادات فریدی جلد ۳ ص۰ ۷ مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ ۱۳۳۰ھ ) صاحب جواہر الاسرار لکھتے ہیں کہ اربعین میں یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔” مہدی ایک ایسے گاؤں سے مبعوث ہو گا جس کا نام ”کدعہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ اُس کی تصدیق میں نشان دکھائے گا۔اور بدری صحابہ کی طرح مختلف علاقوں کے رہنے والے تین سو تیرا جلیل القدرصحابہ اسے عنایت فرمائے گا جن کے نام اور پتے ایک مستند کتاب میں درج ہوں گے۔(حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ۳۱۳ صحابہ کے نام اور پتے کتاب انجام آتھم میں محفوظ ہیں۔ناقل ) لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ اَوْرِجَالٌ مِنْ هؤلاء۔(بخاری کتاب التفسير سورة جمعه )