جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف اور امتیازی عقائد — Page 13
جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف خلافت۔جماعت احمدیہ کا امتیازی نشان حضرت بانی جماعت احمدیہ کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی بشارتوں کے عین مطابق جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ اسلامیہ کا سلسلہ 1908 سے شروع ہوا۔1908 سے لیکر 1914 تک حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نے آپ کے خلیفہ اول کے طور پر جماعت کی قیادت کی۔اس کے بعد 1965 تک حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے دوسرے خلیفہ کے طور پر جماعت کی سر براہی کی۔آپ کے بعد خلافت کی ذمہ داری حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے سپرد ہوئی۔1982 میں آپ کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو منصب خلافت عطا ہوا۔2003 میں جب آپ کا وصال ہوا تو خلافت اور جماعت کی قیادت کی ذمہ داری حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سپرد ہوئی جو اس وقت حضرت بانی سلسلہ کے پانچویں خلیفہ اور جماعت احمدیہ مسلمہ کے روحانی سر براہ اور امام ہیں۔خلافت احمدیہ کا روحانی نظام قیادت جو قرآن مجید کی سورۃ النور کی آیت 56 میں مذکور ہے جماعت احمدیہ کا ایک ایسا امتیاز ہے جو آج سارے عالم اسلام میں کسی اور جماعت کو حاصل نہیں۔یہ امر یا د رکھنے کے لائق ہے کہ خلافت کا نظام موروثی نہیں بلکہ اللہ تعالی نے قیام خلافت کے نظام کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔خلیفہ خدا بنا تا ہے۔جب جماعت مومنین کے نمائندہ افراد ایک خلیفہ کے وصال پر اکٹھے ہو کر اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں تو خدائی تصرف کے نتیجہ میں وہی شخص خلیفہ کے طور پر نظروں میں آتا ہے جس کا انتخاب پہلے سے خدائی تقدیر 13