جلسہ سالانہ — Page 50
50 تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پانچ سو احباب جماعت نے شرکت کی اور ان میں سے تین سوستائیس احباب قادیان سے باہر کے تھے۔۱۸۹۳ء کا بعض وجوہ سے ملتوی کر دیا گیا۔۱۸۹۴ء تا ۱۹۰۰ء میں مسجد اقصیٰ قادیان میں جلسے منعقد ہوتے رہے۔۱۸۹۶ء میں جلسہ مذاہب عالم لاہور (جس میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا مضمون پڑھا گیا تھا ) جو کہ دسمبر میں ہی منعقد ہوا تھا اسی کے پیش نظر قادیان میں جلسہ سالا نہ ملتوی کر دیا گیا۔۱۹۰۰ء میں بھی مسجد اقصیٰ قادیان میں جلسہ ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر کی تاریخوں میں ہوا تاہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناسازی طبع کیوجہ سے صرف ایک دفعہ خطاب فرمایا۔اور اس جلسہ میں ۵۰۰ احباب نے شرکت کی۔۱۹۰۱ء میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔۱۹۰۵ء کے جلسہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس جلسہ میں بہشتی مقبرہ کے انتظام کیلئے ایک انجمن بنائی گئی جس کا نام ” انجمن کار پردازان مصالح بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔دور مسیح موعود علیہ السلام کا آخری مسجد اقصی قادیان میں ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر ۱۹۰۷ء کو منعقد ہوا۔مؤرخہ ۲۵ دسمبر کو انجمن تشخیز الاذہان کا جلسہ ہوا۔مؤرخہ ۲۶ دسمبر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح جب سیر کے لئے تشریف لے گئے تو حسب معمول بہت سے احباب ساتھ ہو گئے۔اثناء سیر حضور ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور قریباً دو گھنٹہ تک اپنے خدام کو مصافحہ کا شرف بخشا۔مؤرخہ ۲۷ اور ۲۸ تاریخ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلائی۔۲۸ دسمبر کو آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "زندگی کا کچھ اعتبار نہیں جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سالِ آئیندہ تک زندہ رہے گا اور کون مرجائے گا“ اس جلسہ میں مہمانوں کی بہت کثرت تھی۔جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے علاوہ اردگرد کی دکانوں اور