جلسہ سالانہ

by Other Authors

Page 63 of 77

جلسہ سالانہ — Page 63

63 یہ وہ سالانہ جلسہ ہے جو ایک عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔سب جلسے بہت اچھے ہوتے ہیں محض اللہ کی خاطر دور دور سے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں بہت سے فوائد باہمی محبت کے ذریعے بھی بڑھتے ہیں اور دیگر روحانی اور آسمانی برکات بھی بکثرت نازل ہوتی ہیں۔جرمنی کا جلسہ بھی بہت غیر معمولی نوعیت اختیار کر چکا ہے کینیڈا کا بھی اپنا رنگ رکھتا تھا امریکہ کا بھی ، دور دور سے مہمان آتے ہیں اور ان سے مل کر محبتیں تازہ ہوتی ہیں پرانی یاد میں پھر زندہ ہو جاتی ہیں اور آئندہ کے لئے گویا زادِراہ مل جاتا ہے۔بعض جلسے ایسے ہیں اتنا روحانی زاد چھوڑ جاتے ہیں ایسی غذا پیچھے چھوڑ جاتے ہیں کہ سارا سال یادوں میں ان کو کھایا جاتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوتیں۔مگر یو۔کے۔یعنی United Kingdom کا جو جلسہ ہے اس کی اپنی ایک شان ہے۔اس کثرت سے دور دراز سے، مشرق و مغرب، شمال و جنوب سے دنیا کے کسی جلسے میں لوگ اس طرح اکٹھے نہیں ہوتے جیسے انگلستان کے جلسے میں آتے ہیں اس لئے اس پہلو سے اسے ایک مرکزیت حاصل ہوگئی ہے۔اور وہ آتے ہیں جن کا انتظار رہتا ہے۔بعض چہرے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔خاص طور پر اپنے مظلوم بھائی ، مظلوم بہنیں ، مظلوم بچے جو پاکستان سے آتے ہیں۔اترے ہوئے، دکھے ہوئے چہرے آتے ہیں تو کھلکھلا اٹھتے ہیں۔نئی زندگی نئی تازگی پیدا ہوتی ہے۔خو شیاں بھی لاتے ہیں غم بھی لاتے ہیں اور بیک وقت ایسی کیفیت میں وقت گزرتا ہے کہ اس کا بیان ممکن نہیں۔لیکن جلسے کی عادت یہ ہے کہ مدتوں انتظار کراتا ہے راہ دیکھتے چلے جاتے ہیں جب آتا ہے تو ایسے گزر جاتا ہے جیسے پلک جھپکنے میں نکل گیا۔یہ وصل کی کفیت کا حال ہے اور محبت کے طبعی تقاضے ہیں۔ایک ایسی ہی کفیت کو بیان کرنے کے لئے میں نے ایک دفعہ ، اپنے ایک شعر میں یوں کو شش کی تھی کہ