جلسہ سالانہ — Page 64
64 لمحات وصل جن ازل کا گمان تھا چٹکی میں اڑ گئے وہ طیور سرور شب یعنی وہ لمحات وصل کے جب تھے تو لگتا تھا کہ ازل آگئی ہے، وقت ٹھہر گیا ہے، اور جب گزرے تو سیہ رات کے پرندے لگتا تھا کہ چکٹی میں اڑ گئے۔ہمارے جلسے بھی اسی طرح آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ابھی کچھ دیکھا بھی نہیں تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا، گزر گیا۔پس جتنے بھی لمحات ہیں ان کی قدر کریں۔میں ایک اور بات کی نصیحت آپ کو کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس جلسے میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ پہلے سے بھی بڑھ کر غیر معمولی فضلوں کو نازل ہوتا دیکھیں گے۔اور ان فضلوں کے دیدار کی جو خدا نے توفیق عطا فرمائی ہے اس کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔یہ دن ذکر الہی میں گزاریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر اس کے احسانات کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے وقت کو کاٹیں اور اس جنت سے لطف اندوز ہوں۔جو شکر کی جنت ہے ویسی کوئی جنت نہیں۔شکر ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ شکر گزار بندہ جو ہے وہ واقعتا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے تلے اس دنیا میں ہی جنت پا جاتا ہے۔اور اس کے عظیم فوائد ہیں جو اپنی ذات میں الگ خطاب کو چاہتے ہیں مگر اتنا میں آپ کو کہوں گا کہ خدا کے فضلوں کا شکر کیسے ممکن ہوگا جو بارش کی طرح برس رہے ہوں ان گنت ہوں، ناممکن ہے کہ آپ ان کا احاطہ کر سکیں۔تو جہاں تک ہمارا فرض ہے ہمیں چاہیئے کہ جس حد تک ممکن ہے خدا کے فضلوں پر نظر کر میں اور خدا کے احسان کا بدلہ تو انسان اتار ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے۔ایک ذریعے سے وہ احسان 66 کا بدلہ اتارنے کا احساس اور شعور بیدار کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسمار زقنهم ينفقون “ جتنا