جلسہ سالانہ

by Other Authors

Page 30 of 77

جلسہ سالانہ — Page 30

30 ہوں۔میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک <mark>کر</mark>و اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن <mark>کر</mark>و جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں۔ظاہری رؤیت تو حیوانات میں بھی موجود ہے۔مگر انسان اس وقت سو جا کھا کہلا سکتا ہے جبکہ باطنی رویت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ م<mark>لے</mark> اور پھر نیکی کی طرف جھک جائے۔سوتم اپنی آنکھوں کے لئے نہ صرف چار پاؤں کی بینائی بلکہ حقیقی بینائی ڈھونڈ و۔اور اپنے دلوں سے دنیا کے بُت باہر پھینکو کہ دنیا دین کی مخالف ہے۔جلد مرو گے اور دیکھو گے کہ نجات انہیں کو ہے کہ جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل تھے۔میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے۔لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں <mark>کر</mark>تے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں۔لیکن خدا اگر چاہے۔اور میں تو ایسے لوگوں سے اس دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے اح<mark><mark>کام</mark></mark> کو عظمت سے نہیں دیکھتے اور اس کے جلال اور عزت سے نہیں کانپتے اگر انسان بغیر حقیقی راست بازی کے صرف منہ سے کہے کہ میں مسلمان ہوں یا اگر ایک بھوکا صرف زبان پر روٹی کا نام لاوے تو کیا فائدہ۔ان طریقوں سے نہ وہ نجات پائے گا اور نہ وہ سیر ہو گا۔کیا خدا تعا<mark>لے</mark> دلوں کو نہیں دیکھتا۔کیا اس علیم وحکیم کی گہری نگاہ انسان کی طبیعت کے پاتال تک نہیں پہنچتی۔پس اے نادانو ! خوب سمجھو۔اے غافلو ! خوب سوچ لو کہ بغیر کچی پاکیزگی ایمانی اور اخلاقی اور <mark>اعمال</mark>ی کے کسی طرح رہائی نہیں۔اور جو شخص ہر طرح سے گندہ رہ <mark>کر</mark> پھر اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے وہ خدا تعا<mark>لے</mark> کو نہیں بلکہ وہ اپنے تئیں دھوکہ دیتا ہے۔اور مجھے ان لوگوں سے کیا <mark><mark>کام</mark></mark> جو