جلسہ سالانہ — Page 74
74 کریں۔نوکری جانے کا بھی خطرہ ہو تو نوکری جانے دیں۔جان نہ جانے دیں۔اور ہمیں پھر اس کا دکھ پہنچتا ہے۔مرنے والا تو گزر جاتا ہے لیکن پچھلوں کو اس کا دکھ پہنچتا ہے۔اس لئے بہت سی چٹیں ایسی کاروں کے سامنے لگائی جاتی ہیں کہ جس میں احتیاط سے سفر کرنے کی تاکید ہوتی ہے۔جو اللہ کی طرف سے تقدیر ہو اس کا تو کوئی علاج نہیں۔کار میں پھسل بھی جاتی ہیں۔دوسرے ڈرائیوروں کی غلطی سے بھی ٹکر لگ جاتی ہے۔تو جہاں تک تفقد برانہی کا تعلق ہے اس سے تو ہر گز لڑا نہیں جا سکتا لیکن جہاں تک احتیاط کا تعلق ہے ہر احتیاط کرنا انسان کا فرض ہے۔پھر اپنے معاملے کو نقد سرالہی پر چھوڑ دے۔اس کے بعد ایک آخری نصیحت یہ کرنی چاہتا ہوں کہ جرمنی میں امسال پہلی دفعہ انٹر نیشنل کا انعقاد ہوا ہے اور بڑی کثرت سے بیرونی ممالک سے لوگ تشریف لائے ہوئے ہیں۔ان میں اکثر کے متعلق جو باہر سے تشریف لائے ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ واپس اپنے ملکوں کو جائیں گے۔خصوصاً مغربی ممالک سے جو آئے ہوئے ہیں ان کو کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ جرمنی میں ٹھہر ہیں۔اور جہاں تک پاکستان سے آنے والوں کا تعلق ہے میں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران ان سے دریافت کیا ہے بلا استثناء ہر ایک نے یہ کہا کہ ہم جلسہ کے بعد واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت کو اس بات کا احساس ہے۔مگر اگر کسی کے دماغ میں یہ فتور ہو کہ ویزا میں نے اپنی کوشش سے حاصل کیا ہے اور میں یہاں رہ کر اسائکم لے سکتا ہوں تو یہ بالکل غلط ہے۔ہرگز جماعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔خواہ وہ اپنی کوشش سے لیا گیا ہو یا جماعت کی گارنٹی سے لیا گیا ہو جو بھی جرمنی میں اس سال اس جلسہ پر آیا ہے اس کا لازمی فرض ہے کہ وہ جلسہ کے بعد اپنی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے واپس اپنے ملک میں چلا