جلسہ سالانہ

by Other Authors

Page 11 of 77

جلسہ سالانہ — Page 11

11 نے فرمایا تھا کہ اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔نیز آپ نے فرمایا کہ اسکی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی۔آپ نے بڑی تحدی اور جلال کے ساتھ فرمایا کہ ان باتوں کو ناممکن مت خیال کرو کہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔خدا کی بات پوری ہوئی۔کوئی نہیں جو تقدیر خداوندی کو روک سکے۔احمدیت اکناف عالم میں پھیلتی گئی اور ہر قوم وملت کے لوگ قافلہ در قافلہ احمدیت میں داخل ہوتے گئے۔جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے عشاق اسلام کی تعداد بھی سال بہ سال بڑھتی چلی گئی۔۱۹۸۳ء میں مرکز احمدیت میں منعقد ہونے والے آخری تاریخی میں شامل ہونے والوں کی تعداد کم و بیش پونے تین لاکھ بتائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل اس رنگ میں بھی ظاہر ہونے لگا کہ پاکستان میں بندش سے بہت پہلے ہی کا شجرہ طیبہ بیرونی ممالک میں لگ گیا اور سال بہ سال ترقی کرنے لگا۔ایک طرف انڈو نیشیا میں اس کا آغاز ہوا تو دوسری طرف گھانا میں اس کی داغ بیل ڈالدی گئی۔امریکہ میں اس کا انعقاد شروع ہوا تو برطانیہ اور جرمنی میں بھی ایسے جلسے بڑی شان سے منعقد ہونے لگے۔اب تو یہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مشرق اور مغرب ، شمال اور جنوب، غرضیکہ دنیا کے ہر علاقہ میں احمد یہ کیلنڈر کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے مسیح موعود علیہ السلام کی بات کس شان سے پوری ہو رہی ہے کہ ہر قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی۔