جلسہ سالانہ — Page 10
10 مرکزی کی ابتداء قادیان کی مقدس بستی سے ہوئی۔قادیان ایک وقت میں گمنام اور نا معلوم بہتی تھی۔کی برکت سے کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر والا دور ختم ہوا اور یہی مقدس بستی مرجع خاص و عام بن گئی۔ہر سال جلسہ کے موقع پر اس بستی کی شان دیکھنے والی ہوتی ہے۔تقسیم ہند کے بعد بھی قادیان میں کا سلسلہ با قاعدگی سے جاری رہا۔نامساعد حالات کے باوجود عشاق اسلام اس جلسہ کی برکتوں سے اپنی جھولیاں بھرتے رہے۔1999ء میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنفس نفیس قادیان کے میں شمولیت فرما کر اسے ایک تاریخی بنا دیا۔ہندوستان کی سرزمین پر آپ کی پرسوز دعا ئیں رنگ لائیں اور ہندوستان میں ایک عظیم روحانی بیداری پیدا ہوگئی۔خوابیدہ شیر بیدار ہو گئے اور دن رات میدان تبلیغ میں سرگرم دکھائی دینے لگے آسمان سے رحمتوں کی بارشیں ہونے لگیں۔اور ہر سال احمدیت قبول کرنے والوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں ہوگئی۔نو احمدیوں کے وفود قافلہ در قافلہ قادیان میں آنے لگے اور اب تو قادیان کا سر زمین ہند پر مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع بن چکا ہے جس کی تعداد بھی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور روحانی کیفیات بھی۔۱۹۴۶ ء تک مرکزی جلسے قادیان میں ہوتے رہے۔تقسیم ہند کے بعد دو سال جلسے لاہور (پاکستان) میں ہوئے اور ۱۹۴۹ء سے ربوہ دارالہجرت میں ان کا انعقاد ہونے لگا۔آخری جلسہ ۱۹۸۳ء میں ہوا جس کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے جماعت احمدیہ کا مرکزی جلسہ ربوہ میں منعقد نہ ہوسکا۔اور یہ صورت تا حال قائم ہے۔اس روحانی اور ایمان افروز کی بنیا در کھتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام