جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 38
اس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ دونوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا تب اُس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اس کا غصب شریروں پر بھڑکا اور اس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور یکی خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا " حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت پر ۱۸۹۲ء میں برطانوی ہند کے علماء نے قومی کفر دیا اُس کی بنیادی وجہ حیات شیخ ناصری سے انکار تھا۔لیکن احمد ثیت کی پہلی صدی میں ہی اس عقیدہ کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ دور حاضر کے بہت سے عرب زحما د حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طبعی وفات کے قائل ہو چکے ہیں اور شیخ کی آمد ثانی کے تحصیل کو بے بنیاد یقین کرتے ہیں اور جیسا کہ علام محمد عزت الطحاوی نے اپنی کتاب النصرانيه والاسلام" (شائع کرده مکتبه النور مصر ۱۴۰۷ھ) میں ذکر کیا ہے۔ان زماء عرف میں الاستاذالامام محمد عبده ، الستيد محمد رشید رضا ، فضیلة الاستاذ الشیخ محمد ابو زہرہ، الاستاذ الاكبر شیخ مصطفی الارضی شیخ الازہر، الاستاذ الاكبر اشیخ محمود شلتوت شیخ الازہر، الاستاذ محمد الغزالي، الاستاذ حسنی الزمزمی اور الاستاذ این عز العرب جیسی بلند پایہ علمی تخصیات شامل ہیں۔ان