جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 19
14 یہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جدید علم کلام ہی کا انجاز ہے کہ کل طیبہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ و ایمان کا ہمیشہ جزو اعظم رہا ہے۔اور یہ حقیقت تو تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ اُس نے کلام طیبہ کی خاطر ایسی عدیم النظیر قربانیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر لی ہے کہ یہ مقدس کلمہ حضرت خاتم الانبیاء حمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی یادگار ہے پاکستان میں احمدیوں کی علامت بن چکی ہے اور اسی سے اُن کا دینی تشخص ہوتا ہے۔(اخبار نوائے وقت“ لاہور دارمئی ۱۹۸۷ء صت) حضرت سیدنا فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے قادیان میں خطبہ جمعہ ۲۸ را گست ۱۹۳۶ ء کے دوران یه پر شوکت اعلان فرمایا کہ ہمارے لیے خود اللہ تعال اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے یہ مائو تجویز فرمایا ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول الله - اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھے۔(الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۳۶ء صفحہ ۵-۷) فرزندان احمدیت کلمہ طیبہ کی عظمت و حرمت کے لیے ہمیشہ کفن بر دوش رہے ہیں۔۔۔اس جرم کی پاداش میں کئی خوش نصیب، جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کئی اب بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور ظلم و تشدد کے باوجود کلم طیبہ کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے کلمہ کے علاوہ کسی جدید کلمہ کا اقرار نہیں گوارا نہیں اور ہرگز گوارا نہیں !! اس باب میں ان کا مسلک خالص حسینی ہے " کٹا کو گردنیں بتلا گئے یہ کربلا والے کبھی بندوں کے آگے جھا نہیں سکتے خدا نے پاکستان کے مشہور قانون دان اور صاحب طرز ادیب جناب اصغر علی صاحب کھرل ایڈووکیٹ اپنی تالیف ” اقبال یا ملا ازم میں احمدیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :-