جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 108
I-A دلوں میں قیام کرتا ہے اور ذاتی طور پر ہر ایک کے وجود میں کارفرما ہے، جو آسمانی بادلوں کے ساتھ زمین کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیئے دوبارہ جلوہ گر ہو گا۔جو خدا کے سب دشمنوں کو غمزدہ کر دے گا او اپنے ساتھ اپنے شاگردوں کو آسمانی نور کے جلو میں لائے گا تا وہ اس کے نورانی وجود جیسے بن جائیں اگر یہ عیسائیت ہے تو یقیناً اسے سینٹ پال نے قائم کیا ہے نہ کہ ہمارے آقا (یسو سیح) نے سومر ظہور احمدیت کے بعد مستشرقین یورپ کے خیالات میں زبر دست تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔قبل ازیں وہ مدت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نہایت بے باکی سے ہرزہ سرائی میں سرگرم تھے اور اُن کی دریدہ دہنی انتہاء تک پہنچ گئی تھی۔اور وہ اسلام کو خونی مذہب قرار دیتے تھے اور اس کی اشاعت کو تلوار کا مرہون منت جانتے تھے مگر بیسویں صدی میں وہ برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بے مثال شخصیت اور محسن انسانیت ہیں اور اسلام آزادی فکر اور رواداری کا علمبردار نہ ہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نا پاک الزامات محض تعصب کا نتیجہ ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔اس انقلابی رجحان کی بہترین مثال نیپلز یونیورسٹی میں عربی کی پروفیسر و گلیری کی کتاب "اسلام پر ایک نظر (APOLOGIA DELL ISLAMISHI) ہے جو پہلی دفعہ ۱۹۲۵ء میں اطالوی زبان میں چھپی۔بعد ازاں الڈو کیلی LAURA VECCI A VEGLIE Rid