جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 109
1-4 (ALDO CAS ELLI) ایسے فاضل اور مشہور ادیب نے اس کا انگریزی میتی جماعت کیا جسے ڈاکٹر خلیل احمد صاحب ناصر ایم اے پی ایچ ڈی نے احمد میشن و انگلش سے شروع ۱۹۵۷ء میں شائع کیا۔پیش لفظ حضرت چو ہدری محمد ظفراللہ خاص بالحب حج عالمی عدالت نے رقم فرمایا۔اگست ۱۹۵۷ء میں ما ہرلسانیات محترم شیخ محمد حد صاحب نظر ایڈو کیٹ د امیر جماعت احمد به ضلع فیصل آباد) کے قلم سے اس کاشتہ اور دلنشیں انداز اردو ترجمہ ہوا جسے مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے اپنے مشہور سائہ الفرقان دستمبر اکتوبر ۱۹۵۷ء) میں پہلے بطور ضمیمہ سپرہ اشاعت کیا پھر اسے منتقل رسالہ کی صورت میں چھپوا دیا۔جناب شیخ محمد احمد صاحب منظر نے ترجمہ کتاب سے قبل" تعارف کے زیر عنوان لکھا ” اس کتاب کی دلآویزی معنی آفرینی، اختصار اور جامعیت، وسعت نظر اور انصاف پسندی اپنی نظیر آپ ہے اور ہماری تعریف و توصیف سے مستغنی یا (صفحہ ۷) اس کتا کے انگریزی ترجمہ نے عرب حلقوں میں دھوم مچادی۔اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر دنیائے عربکے ممتاز اہل قلم اور دیں میرا لبعلبکی نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا جو حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے عربی پیش لفظ کے ساتھ دار المعلم للملايين، بیروت نے شائع کیا۔کتاب کا یہ عربی ایڈیشن دفاع عن الاسلام کے نام سے چھپا اور ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔۱۹۸۱ء تک اس کے پانچ ایڈیشن چھپ چھلکے ہیں۔ڈاکٹرو کلیر کو اگر یہ خصوصیت حاصل ہے کہ انہوں نے اسلام اور آنحضرت عنوان : AN INTERPRETATION OF ISLAM