جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 59 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 59

پر لکھیاں۔مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے طفی بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے اُٹھے جاتے۔مولوی عمرحسین صاحب بٹالوی کا نیچر بالکل معمولی تھا۔وہی ملانی خیالات تھے جن کو ہم لوگ بہروز سنتے ہیں اُس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی اور مولوی او موصوف کے دوسرے حصہ لیکچر کے وقت پر کئی شخص اُٹھ کر چلے گئے تھے مولوی ممدوح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کے لیئے لالہ درگا پر شاد صاب نے آپ آپ دس پندرہ منٹ اجازت دے دی۔مومن کہ وہ لیکچر ایسا پر لطف اور ایسا عظیم الشان تھا کہ بجز سننے کے اس کا لطف بیان میں نہیں آسکتا۔مرزا صاحب نے انسان کی پیدائش سے لے کو معاد تک ایسا مسلسل بیان فرمایا، اور عالم برزخ اور قیامت کا حال ایسا عیاں فرمایا کہ بهشت و دوزخ سامنے دیکھا دیا۔اسلام کے بڑے سے بڑے مخالف اُس روز اس لیکچر کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔چونکہ وہ پیکچر عنقریب رپورٹ کیا شائع ہونے والا ہے اس لئے ہم ناظرین کو شوق دلاتے ہیں کہ اس کے منتظر رہیں مسلمانوں میں سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا طر یہ بیان بھی کسی قدرا چھا تھا لیکن لیکچر عموماً وعظ کی تم کا طرفہ قسم کا تھا فلسفیانہ ڈھنگ کا نہیں تھا جس کی جلسہ کو ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔بہر حال اس کا شکر ہے کہ اس جلسہ میں اسلام کا بول بالا رہا۔اور تمام غیر ذاہب کے دلوں پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا۔گونبان سے وہ اقرار کریں یا نہ کریں کا