جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 52
or کے لیے یہ جلسہ انعقاد پایا ہے کہ سچائیاں ظاہر ہوں تو صدا نے اُن کو اس فرض کے ادا کرنے کا اب خوب موقع دیا ہے جو ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہو تا۔میرا دل اس بات کو قبول کر نہیں سکتا کہ اگر ایک شخص سچا جوش اپنے مذہب کے لیے رکھتا ہو اور فی الواقع اس بات میں ہمدردی انسانوں کی دیکھتا ہوں کہ ان کو اپنے مذہب کی طرف کھینچے تو پھر وہ ایسی نیک تقریب میں جبکہ صدہا مہذب او تعلیمیافتہ لوگ ایک عالم تھا موشی میں بیٹھ کر اس کے مذہب کی خوبیاں سننے کے لیے تیار ہوں گے ایسے مبارک وقت کو ہاتھ سے دیدے۔کیا میں قبول کر سکتا ہوں کہ جو شخص دوسروں کو ایک مہلک بیماری میں خیال کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کی سلامتی میرے دوائیں ہے اور بنی نوع کی ہمدردی کا دعویٰ بھی کرتا ہے وہ ایسے موقع میں جو غریب بیمار اُس کو علاج کے لیے بلاتے ہیں، وہ دانستہ پہلو تہی کرے۔میرا دل اس بات کے لیئے تڑپ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جائے کہ کونسا مذہب در حقیقت سچائیوں اور صداقتوں سے بھرا ہوا ہے۔اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جون کے ذریعہ میں اپنے اس بیچے جوش کو بیان کر سکوں۔میرا قوم کے بزرگ اعظوں اور جلیل الشان خامیوں پر کوئی حکم نہیں صرف اُن کی خدمت میں سچائی ظاہر کرنے کے لیئے ایک عاجزانہ التماس ہے۔میں اس وقت مسلمانوں کے معزز علماء کی خدمت میں اُن کے خدا کی قسم دیگر با درب التماس کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنا مذہب منجانب اللہ جانتے ہیں تو اس موقع پر اپنے اُسی نبی کی عزت کے لیے جس کے فدا شدہ وہ اپنے تئیں خیال کرتے ہیں اس