جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 125
۱۲۵ اہم اختلافات ہیں۔بالخصوص یہ حقیقت سامنے ہے کہ اس انجیل میں مقدیمی عشائے ربانی کا تذکرہ نہیں ہے۔اور یہ بات عام طور پر لوگوں کے علم میں نہیں ہے۔نزول قرآن کی ایک تاریخ ہے جو بنیادی طور پر ان دونوں سے مختلف ہے۔اس کا پھیلاؤ لگ بھگ میں سال کی مدت پر ہے۔جیسے ہی یہ حضرت جبریل کے ذریعہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتا تھا ویسے ہی اہل ایمان اس کو حفظ کر لیتے تھے۔پھر اس کو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے دوران ضبط تحریر میں بھی لے آیا گیا تھا۔قرآن کریم کی آخر می تنظیمات خلیفہ الرسول حضرت عثمان کے زمانہ میں کی گئیں جس کی ابتداء نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کی رحلت کے بارہ سال بعد در انتها تروریس سال بعد ہوئی۔اُس وقت یہ فائدہ حاصل تھا کہ جین لوگوں کو قرآن پہلے ہی سے حفظ یاد تھا اُن سے اس کا موازنہ کر لیا جاتا تھا۔کیونکہ انہوں نے بوقت نزول ہی اُس کو یا کر لیا تھا اور بعد میں برابر اس کی تلاوت کرتے رہے تھے۔ہمیں معلوم ہے کہ متن کو اسی وقت سے پوری دیانت داری سے محفوظ کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے استناد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قرآن مجید ان دونوں صحیفوں سے جو اس سے قبل نازل ہوئے تھے بڑھ چڑھک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اور اپنے بیانات کے لحاظ سے تضادات و تناقضات سے پاک ہے جبکہ اناجیل میں انسان کی کارگزاریوں کی علامت پائی جاتی ہے۔قرآن کی اُن لوگوں کے لیے جو معروضی طور پر اور سائنسی اعتبار سے اس کا جائزہ لیتے ہیں ایک الگ خوبی ہے۔وہ خوبی جدید سائنسی معلومات سے اُس کی کلی طور پر مطابقت ہے۔اس سے بھی بڑھ کو جو بات ہے وہ یہ کہ اس میں ایسے بیانات موجود ہیں (جیسا کہ بتایا جا چکا ہے) جو سائنس سے مربوط ہیں۔ایسی صورت میں یہ بات ناقابل تصور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا کوئی شخص اس